براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 340
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم ه نمبراا ۲۹۲) ماننا چاہئے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کلام کی عظمت و شوکت متکلم کی علمی ہے کہ روح کیا چیز ہے اور کیونکر داخل ہوتی اور کیونکرنکلتی ہے ظاہر ا تو کچھ نکلتا نظر نہیں آتا اور نہ داخل ہوتا نظر آتا ہے اور اگر کسی جاندار کو وقت نزع جان کے کسی شیشہ میں بھی بند کرو تب بھی کوئی چیز نکلتی نظر نہیں آتی اور اگر بندشیشہ کے اندر کسی مادہ میں کیڑے پڑ جائیں تو ان روحوں کے داخل ہونے کا بھی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتا۔ انڈے میں اس سے بھی زیادہ تعجب ہے کس راہ سے روح پرواز کر کے آتی ہے اور اگر بچہ اندر ہی مرجائے تو کس راہ سے نکل جاتی ہے کیا کوئی عاقل اس معمہ کو صرف اپنی ہی عقل کے زور سے کھول سکتا ہے۔ وہم جتنے چا ہو دوڑاؤ مگر مجرد عقل کے ذریعہ سے کوئی واقعی اور یقینی بات تو معلوم نہیں ہوتی پھر جبکہ پہلے ہی قدم میں یہ حال ہے تو پھر یہ ناقص عقل امور معاد میں قطعی طور پر کیا دریافت کر لے گی ؟ کیا آپ لوگوں میں اس بات کا سمجھنے والا کوئی نہیں رہا ؟ کیا تمہاری اس مصیبت زدہ حالت پر تمہیں آپ ہی رحم نہیں آتا ؟ جس حالت میں جیفہ دنیا کے پیچھے تمہارے پیٹ میں اتنی کھلبلی پڑی ہوئی ہے کہ اس کے حصول کے جوش میں ہزار ہا کوس کا سفر خشکی و تری میں کرتے ہو تو کیا عالم معاد تمہاری نظر میں کچھ چیز نہیں۔ افسوس کیوں آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ روح کی ہر یک بے قراری کا چارہ اور نفس امارہ کی ہر یک مرض کا علاج صرف اپنے ہی تخیلات اور تصورات سے ممکن نہیں۔ یہ ایک قدرتی قاعدہ ہے کہ جب انسان کسی جذ بہ نفسانی یا آفت روحانی میں مبتلاء ہو مثلا قوت غضب یہ اشتعال میں ہو یا قوت شہو یہ شعلہ زن ہو یا کسی مصیبت اور ماتم اور ہم اور غم میں گرفتار ہو یا کسی اور تغیر نفسانی یا روحانی سے مقہور ہوتو وہ اُن امراض اور اغراض کو کہ جو اس کے نفس اور روح پر غلبہ کر رہی ہیں صرف اپنے وعظ اور نصیحت سے دور نہیں کر سکتا بلکہ ان جذبات کے فرو کرنے کے لئے ایک ایسے واعظ کا محتاج ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں بارعب اور بزرگ اور اپنی بات میں سچا اور اپنے جو بیہودہ بازاروں اور دیہات میں گشت کرتے پھرتے ہیں شریک کر لیجئے ۔ اور خدا کے ساتھ ذرا لڑ کر دکھائیے ۔ ورنہ جو لوگ ہمارا مردانہ اشتہار پڑھ کر آپ لوگوں کی یہ ۲۹۲ ۵۲۹۲ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲