براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 319

روحانی خزائن جلد 1 ۳۱۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم دنیا کی طرف لگ رہا ہے مگر افسوس کہ دنیا بھی ان کو نہیں ملتی۔خسر الدنيا والعاقبة بن رہے ہیں۔ اور کیونکر ملے۔ دین تو ہاتھ سے گیا اور دنیا کمانے کے لئے جو لیا قتیں ہونی چاہئیں وہ حاصل نہیں کیں۔ صرف شیخ چلی کی طرح دنیا کے خیالات دل میں بھرے ہیں۔ اور جس لکیر پر چلنے سے دنیا ملتی ہے اس پر قدم نہ رکھا۔ اور اس کے مناسب حال اپنے تئیں نہ بنایا۔ سواب ان کا یہ حال ہے کہ نہ ادھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ انگریز جوانہیں نیم وحشی کہتے ہیں یہ بھی ان کا احسان ہی مجھیئے ورنہ اکثر مسلمان وحشیوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں۔ نہ عقل رہی نہ ہمت رہی نہ غیرت رہی نہ محبت رہی۔ فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ جس قدر ان کے ہمسائیوں آریوں کی نظر میں ایک ادنی حیوان گائے کی عزت اور توقیر ہے ان کے دلوں میں اپنی قوم اور اپنے بھائیوں اور اپنے سچے دین کی مہمات کی اس قدر بھی عزت نہیں۔ کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اولو العزم قوم آریہ گائے کی عزت قائم رکھنے کے لئے اس قدر کوششیں کر کے لکھو کھا روپیہ جمع کر لیتے ہیں کہ مسلمان لوگ اللہ اور رسول کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس کا ہزارم حصہ بھی جمع نہیں کر سکتے بلکہ جہاں کہیں اعانت دینی کا ذکر آیا تو وہیں عورتوں کی طرح اپنا مونہہ چھپا لیتے ہیں۔ اور آریہ قوم کی اولوالعزمی غور کرنے سے اور بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گائے کی جان بچانے کے لئے کوشش کرنا حقیقت میں ان کے مذہب کے رو سے ایک ادنی کام ہے کہ جو مذہبی کتب سے ثابت نہیں ۔ بلکہ ان کے محقق پنڈتوں کو خوب معلوم ہے کہ کسی وید میں گائے کا حرام ہونا نہیں پایا جاتا۔ بلکہ رگ وید کے پہلے حصہ سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے زمانہ میں گائے کا گوشت عام طور پر بازاروں میں بکتا تھا اور آریہ لوگ بخوشی خاطر اس کو کھاتے تھے ۔ اور حال میں جو ایک بڑے محقق یعنے آنریبل مونٹ اسٹورٹ انفنٹی جی صاحب بہادر سابق گورنر بمبئی نے واقعات آریہ قوم میں ہندوؤں کے مستند پستکوں کے رو سے ایک کتاب بنائی ہے جس کا نام تاریخ ہندوستان ہے اس کے صفحہ نواسی میں منو کے مجموعہ کی نسبت صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کا گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے یعنے اگر ہ سہو کتابت ہے صحیح الفنسٹن (Mountstuart Elphinstone) ہے۔(ناشر)