براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 317

روحانی خزائن جلد 1 ۳۱۵ مسلمانوں کی نازک حالت اور انگریزی گورنمنٹ براہین احمدیہ حصہ چہارم الف ترسم کہ بہ کعبہ چوں روٹی اے اعرابی کیں ره که تو می روی بترکستان است آج کل ہمارے دینی بھائیوں مسلمانوں نے دینی فرائض کے ادا کرنے اور اخوت اسلامی کے بجالانے اور ہمدردی قومی کے پورا کرنے میں اس قدرستی اور لا پروائی اور غفلت کر رکھی ہے کہ کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان میں ہمدردی قومی اور دینی کا مادہ ہی نہیں رہا۔ اندرونی فسادوں اور عنادوں اور اختلافوں نے قریب قریب ہلاکت کے ان کو پہنچا دیا ہے اور افراط تفریط کی بے جا حرکات نے اصل مقصود سے ان کو بہت دور ڈال دیا۔ ہے جس نفسانی طرز سے ان کی باہمی خصومتیں برپا ہورہی ہیں۔ اس سے نہ صرف یہی اندیشہ ہے کہ ان کا بے اصل کینہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا اور کیڑوں کی طرح بعض کو بعض کھائیں گے اور اپنے ہاتھ سے اپنے استیصال کے موجب ہوں گے بلکہ یہ بھی۔ یقیناً خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی دن ایسا ہی ان کا حال رہا تو ان کے ہاتھ سے سخت ضرر اسلام کو پہنچے گا اور ان کے ذریعہ سے بیرونی مفسد مخالف بہت سا موقعہ نکتہ چینی اور فساد انگیزی کا پائیں گے۔ آج کل کے بعض علماء پر ایک یہ بھی افسوس ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر اعتراض کرنے میں بڑی عجلت کرتے ہیں اور قبل ا ہیں اور قبل اس کے جو اپنے پاس ، جو اپنے پاس علم صحیح قطعی موجود ہوا اپنے بھائی پر حملہ کرنے کو طیار ہو جاتے ہیں اور کیونکر طیار نہ ہوں بباعث غلبہ نفسانیت یہ بھی تو مد نظر ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک مسلمان کو کہ جو مقابل پر نظر آ رہا ہے نابود کیا جائے اور اس کو شکست اور ذلت اور رسوائی پہنچے اور ہماری فتح اور فضیلت ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بات بات میں ان کو فضول جھگڑے کرنے پڑتے ہیں۔ خدا نے یکلخت ان سے عجز غالبا سہو کتابت ہے صحیح لفظ رہی ہے اور یہ سعدی کا شعر ہے (سید عبدالحی )