براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 314

۳۱۲ روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ سوم بات کے کہ دوسرے مطالع کی نسبت ہم کو اس مطبع میں بہت زیادہ حق الطبع دینا پڑتا ہے۔ تب بھی انہیں کا مطبع پسند کیا گیا اور آئندہ امید قوی ہے کہ انکی طرف سے حصہ چہارم کے چھپنے میں کوئی توقف نہ ہو۔ صرف اس قدر توقف ہوگی کہ جب تک کافی سرمایہ اس حصہ کیلئے جمع ہو جائے۔ سومناسب ہے کہ ہمارے مہربان خریدار اب کی طرح اس حصہ کے انتظار میں مضطرب اور متردد نہ ہوں جب ہی کہ وہ حصہ چھپے گا۔ خواہ جلدی اور خواہ دیر سے جیسا خدا چاہے گا ۔ فی الفور تمام خریداروں کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔ اور اس جگہ ان تمام صاحبوں کی توجہ اور اعانت کا شکر کرتا ہوں جنہوں نے خالص اللہ حصہ سوم کے چھپنے کیلئے مدد دی۔ اور یہ عاجز خاکسار اب کی دفعہ ان عالی ہمت صاحبوں کے اسماء مبارکہ لکھنے سے اور نیز دوسرے خریداروں کے اندراج نام سے بوجہ عدم گنجائش اور بباعث بعض مجبوریوں کے مقصر ہے۔ لیکن بعد ا سکے اگر خدا چاہے گا اور نیت درست ہوگی تو کسی آئندہ حصہ میں بہ تفصیل تمام درج کئے جائیں گے۔ اور نیز اس جگہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس حصہ سوم میں تمام وہ تمہیدی امور لکھے گئے ہیں جن کا غور سے پڑھنا اور یاد رکھنا کتاب کے آئندہ مطالب سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ اور اسکے پڑھنے سے یہ بھی واضح ہوگا کہ خدا نے دین حق اسلام میں وہ عزت اور عظمت اور برکت اور صداقت رکھی ہے جس کا مقابلہ کسی زمانہ میں کسی غیر قوم سے کبھی نہیں ہو سکا اور نہ اب ہو سکتا ہے ۔ اور اس امر کو مدلل طور پر بیان کر کے تمام مخالفین پر اتمام حجت کیا گیا ہے اور ہر یک طالب حق کیلئے ثبوت کامل پانے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے تا حق کے طالب اپنے مطلب اور مراد کو پہنچ جاویں اور تا تمام مخالف سچائی کے کامل نوروں کو دیکھ کر شرمندہ اور لاجواب ہوں اور تا وہ لوگ بھی نادم اور منفعل ہوں جنہوں نے یورپ کی جھوٹی روشنی کو اپنا دیوتا بنا رکھا ہے اور آسمانی برکتوں کے قائلوں کو جاہل اور وحشی اور نا تربیت یافتہ سمجھتے ہیں اور سماوی نشانوں کے ماننے والوں کا نام احمق اور سادہ لوح اور نادان رکھتے ہیں۔ جن کا یہ گمان ہے کہ یورپ کے علم کی نئی روشنی اسلام کی روحانی بر کتوں کو منا دے گی اور مخلوق کا مکر خالق کے نوروں پر غالب آ جائے گا۔ سو اب ہر ایک منصف دیکھے گا کہ کون غالب آیا اور کون لا جواب اور عاجز رہا اور کون صادق اور دانشمند ہے اور کون کا ذب اور نادان ! والله المستعان وعليه التكلان خاکسار غلام احمد عفی اللہ عنہ۔