براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 309
روحانی خزائن جلد 1 ٣٠٧ براہین احمدیہ حصہ سوم بخوبی سمجھ سکے گا۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے اور چیزوں کے خواص متواتر تجربہ اور آزمائش سے معلوم ہوتے ہیں ۔ ایسا ہی بے نظیری کا خاصہ کہ جو قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی بذریعہ تجربہ اور آزمائش ہی معلوم ہوتا ہے۔ خدا نے خواص الاشیاء کی سچائی معلوم کرنے کا یہی ایک طریق رکھا ہے ﴿۲۷۶ نہ آیا سی عظیم نے رو نے زور شور سے اس اعتقاد باطل کارڈ نہ لکھا اور نہ اس قوم تباہ شدہ کی اصلاح کی۔ بلکہ بقیه حاشیه نمبراا خود حکماء اس قسم کے صد ہانا پاک عقیدوں با عقیدوں میں آلودہ اور مبتلا تھے جیسا پادری یوت ل صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں یہ عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیا درکھ دی ہے۔ غرض خدا کا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں ہے بلکہ عقل ۲۷۲ ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے۔ جیسا ظاہر ہے کہ تریاق فی حد ذاتہ انسان کے بدن کے لئے کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن اگر کوئی اپنی کو تہ عقلی سے زہر کو تریاق سمجھ لے تو یہ خود اس کی عقل کا قصور ہے نہ تریاق کا۔ پس یا درکھنا چاہئے کہ یہ و ہم کہ ہر یک امر کی تفتیش کے لئے الہامی کتاب کی طرف رجوع کرنا محل خطر ہے۔ یہ سراسر حمق اور نادانی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ الہام عقل کے لئے ایک آئینہ حق نما ہے اور اس کی سچائی پر بھی یہی دلیل اعظم ہے کہ وہ ایسے تمام امور سے بکلی پاک ہے کہ جو خدا کی قدرت اور کمالیت اور قدوسی پر نظر کرنے کے بعد محال ثابت ہوں ۔ بلکہ دقائق النہیات میں کہ جو نہایت مخفی اور عمیق ہیں عقل ضعیف انسانی کا وہی ایک ہادی اور رہبر ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا عقل کو بریکار نہیں کرتا ۔ بلکہ عقل کو ان باریک بھیدوں تک پہنچاتا ہے جن تک خود بخود پہنچنا عقل کے لئے سخت مشکل تھا۔ سوالہام حقیقی سے یعنی قرآن شریف سے عقل کو سراسر فائدہ اور نفع پہنچتا ہے نہ زیاں اور نقصان اور عقل بذریعہ الہام حقیقی خطرات سے بچ جاتی ہے نہ یہ کہ خطرات میں پڑتی ہے۔ کیونکہ یہ بات ہر یک دانا کے نزدیک مسلم بلکہ اجلی بدیہات ہے کہ محض تشخیص عقلی میں خطا اور غلطی ممکن ہے۔ لیکن عالم الغیب کی کلام میں خطا اور غلطی ممکن نہیں پس اب تم آپ ہی ذرہ منصف ہو کر سوچو کہ جس چیز کو کبھی کبھی سخت لغزشیں پیش آ جاتی ہیں ایک مسیحی متکلم صاحب یعنے وہی صاحب نامہ نگار نور افشاں اپنا دوسرا بہروپ بدل کر ۲۷۷ لے سہو کتابت ہے ۔ صحیح پورٹ ( جان ڈیون پورٹ JOHN DAVENPORT) ہے۔ (ناشر)