براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 305

روحانی خزائن جلد ۱ ٣٠٣ براہین احمدیہ حصہ سوم کر لینا کچھ مشکل بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جس میں کچھ خرچ ہوتا ہے یا کسی اور (۲۷۲﴾ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ وہ راہ دکھلا دیتا ہے اور ہر یک عاقل خوب سمجھتا ہے کہ اگر کسی باب میں فکر کرنے کے وقت اس قدر مددمل جائے کہ کسی خاص طریق پر راہ راست اختیار کرنے کے لئے علم حاصل ہو جائے تو اس علم سے عقل کو بڑی مددملتی ہے اور بہت سے پراگندہ خیالوں اور (۲۷۳ ناحق کی دردسریوں سے نجات ہو جاتی ہے۔ الہام کے تابعین نہ صرف اپنے خیال اور جس کتاب کی متابعت سے اس پیوند کے آثار ظاہر ہو جائیں ۔ اس کتاب کی سچائی ظاہر بلکہ اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ اس میں صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ اس نے مطلب تک پہنچا دیا ہے ۔ سو اب ہم حضرات عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کی انجیلی تعلیم راست اور درست اور خدا کی طرف سے ہے تو بمقابلہ قرآن شریف کی روحانی تاثیروں کے جن کا ہم نے ثبوت دے دیا ہے۔ انجیل کی روحانی تاثیر میں بھی دکھلائیے اور جو کچھ خدا نے مسلمانوں پر بہ برکت متابعت قرآن شریف اور بہ میمن اتباع حضرت محمد مصطفیٰ افضل الرسل و خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے امور غیبیہ و برکات سماویہ ظاہر کئے اور کرتا ہے۔ وہ آپ بھی پیش کیجئے ۔ تاسیہ روئے شو ہر کہ در دوش باشد مگر آپ یا درکھیں کہ آپ دونوں قسم کے امور متذکرہ بالا میں سے کسی امر میں مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ انجیل کی تعلیم کا کامل ہونا تو ایک طرف وہ تو صحیح بھی نہیں رہی ۔ اس نے تو اپنی پہلی ہی تعلیم میں ہی ابن مریم کو ولد اللہ شیر کر اولی السدن ڈردی دکھلا دیا۔ رہی تو ریت کی تعلیم سورہ بھی معترف اور ناقص ہونے کی وجہ سے ایک موم کا ناک ہو رہی ہے جس کو عیسائی اپنے طور پر اور یہودی اپنے طور پر بتار ہے ہیں ۔ اگر توریت میں الہیات اور عالم معاد کے بارے میں وہ تفصیلات ہو تیں کہ جو قرآن شریف میں ہیں تو عیسائیوں اور یہودیوں میں اتنے جھگڑے کیوں پڑتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر سورہ اخلاص کی ایک سطر میں مضمون تو حید بھرا ہوا ہے۔ وہ تمام توریت بلکہ ساری بائیل میں نہیں پایا جا تا اور اگر ہے تو کوئی عیسائی ہمارے سامنے پیش کرے۔ پھر جس حالت میں توریت میں بلکہ تمام بائیبل میں صحت اور صفائی اور کمالیت سے توحید حضرت باری کا ذکر ہی نہیں اور اسی وجہ سے تو ریت اور انجیل میں ایک گڑ بڑ