براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 304

روحانی خزائن جلد ۱ ٣٠٢ براہین احمدیہ حصہ سوم ثابت کر دیں گے۔ اور اس بات کا امتحان کرنا اور حق اور باطل میں فرق معلوم ۲۷۲) على هذا القياس جس طرح آنکھ کے نور کے فوائد صرف آفتاب ہی سے کھلتے ہیں اور اگر وہ نہ ہو تو پھر بینائی اور نا بینائی میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا اسی طرح بصیرت عقلی کی خوبیاں بھی الہام ہی سے کھلتی ہیں کیونکہ وہ عقل کو ہزار ہا طور کی سرگردانی سے بچا کر فکر کرنے کے لئے نزدیک کا راستہ بتلا دیتا ہے اور جس راہ پر چلنے سے جلد تر مطلب حاصل ہو جائے سامان قرآن شریف میں موجود ہے یا انجیل میں۔ جس حالت میں ہم نے اسی فیصلہ کے لئے کہ تا انجیل اور قرآن شریف کی نسبت فرق معلوم ہو جائے دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی اپنی کتاب کے ساتھ شامل کر دیا ہے تو پھر آپ جب تک راست بازوں کی طرح اب ہماری کتاب کے مقابلہ پر اپنی انجیل کے فضائل نہ دکھلا دیں تب تک کوئی دانشمند عیسائی بھی آپ کی کلام کو اپنے دل میں صحیح نہیں سمجھے گا۔ گو زبان سے ہاں ہاں کرتا رہے۔ حضرات !! آپ خوب یاد رکھیں کہ انجیل اور توریت کا کام نہیں کہ کمالات فرقانیہ کا مقابلہ کرسکیں ۔ دور کیوں جائیں انہیں دو امروں میں کہ جو اب تک اس کتاب میں فضائل فرقانیہ میں سے بیان ہو چکے ہیں مقابلہ کر کے دیکھ لیں یعنے اول وہ امر کہ جو متن میں تحریر ہو چکا ہے کہ فرقان مجید تمام الہی صداقتوں کا جامع ہے۔ اور کوئی محق کوئی ایسا بار یک دقیقہ الہیات کا پیش ۲۷۲ نہیں کر سکتا کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو ۔ سو آپ کی انجیل اگر کچھ حقیقت رکھتی ہے۔ تو آپ پر لازم ہے کہ کسی مخالف فریق کے دلائل اور عقائد کو مثلاً پر ہمو سماج والوں یا آریا سماج والوں یا دہریہ کے شبہات کو انجیل کے ذریعہ سے عقلی طور پر رڈ کر کے دکھلاؤ۔ اور جو جو خیالات ان لوگوں نے ملک میں پھیلا رکھے ہیں ان کو اپنی انجیل کے معقولی بیان سے دور کر کے پیش کرو۔ اور پھر قرآن شریف سے انجیل کا مقابلہ کر کے دیکھ لو اور کسی ثالث سے پوچھ لو کہ محققانہ طور پر انجیل تسلی کرتی ہے یا قرآن شریف تسلی کرتا ہے۔ دوسرے وہ امر جو حاشیہ در حاشیہ نمبر ایک میں لکھا گیا ہے یعنے یہ کہ قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کرا دیتا ہے اور پھر وہ طالب خدائے تعالی کے قرب سے مشرف ہو کر اس کی طرف سے الہام پاتا ہے جس الہام میں عنایات حضرت احدیت اس کے حال پر مبذول ہوتی ہیں اور مقبولین میں شمار کیا جاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اس میں ہوتی ہیں اور حقیقت میں یہی پیوند جو او پر لکھا گیا ہے حیات ابدی کی حقیقت ہے ۔ کیونکہ زندہ سے پیوند زندگی کا موجب ہے۔