براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 302
روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷۰ اب بھی اگر کوئی طالب حق اس معجزہ قرآنی کو بچشم خود دیکھنا چاہتا ہے تو بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ عقل اور الہام میں کوئی جھگڑا نہیں اور ایک دوسرے کا نقیض اور ضد نہیں اور نہ الہام حقیقی بھنے قرآن شریف عقلی ترقیات کے لئے سنگ راہ ہے بلکہ عقل کو روشنی بخشنے والا اور اس کا بزرگ معاون اور مددگار اور مربی ہے ۔ اور جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روز روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح بحر ہے وہ کلام تمام عشق حق کا پلا رہا ہے جام بات جب اس کی یاد آتی ہے یاد سے ساری خلق جاتی ہے ہے دل ނ غیر خدا اٹھاتی ہے سینہ میں نقش حق جماتی درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک ہے خدا سے خدا نما وہی ایک ہم نے پایا خور ہدی وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دلربا وہی ایک اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یونہی اک واہیات کہتے ہیں بات جب ہو کہ میرے پاس آدیں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یوں ہی امتحان سہی اور چونکہ نور افشاں کے صاحب راقم نے اپنے سوال کے جواب کے لئے مجھے کو بھی بشمول اور چند صاحبوں کے مخاطب کیا ہے اور ہر چند ایسے تمام وساوس کی اس کتاب میں اپنے موقعہ پر کی بیخ کنی کر دی گئی ہے لیکن بوجہ مذکورہ بالا قرین مصلحت ہے کہ اس جگہ بھی بطور مختصر ان کے وہم کا ازالہ کیا جائے ۔ لہذا ذیل میں لکھا جاتا ہے:۔ جانا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل خیال کرنا سراسر نقصان عقل اور کم فہمی ہے۔ خود حضرت مسیح نے نجیل کی تعلیم کو میرا عن النقصان نہیں سمجھا جیسا کہ انہوں نے آپ فرمایا ہے کہ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح الحق آوے گا تو وہ تمہیں تمام صداقت کا راستہ بتلادے گا۔ انجیل یوحنا باب ۱۶ ۔ آیت ۱۲ و ۱۳ ۱۴۔ اب فرمائیے کیا یہی انجیل ہے کہ جو تمام دینی صداقتوں پر حاوی ہے جس کے ہوتے ہوئے قرآن شریف کی ضرورت نہیں۔ اے حضرات !! جس حالت میں آپ لوگ حضرت مسیح کی وصیت کے موافق انجیل کو کامل اور تمام صداقتوں کی جامع