براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 300
روحانی خزائن جلد ۱ شیه نمبرا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ۲۹۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ہے بلکہ یہ واقعہ حقہ ہے جس کا قرآن شریف ہی کے وقت میں امتحان ہو چکا ہے اور پہنچا سکتی ۔ اور جہالت یہ کہ الہام اور عقل کو دو امر متناقض سمجھ لیا ہے کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور الہام کو عقل کا مضر اور مخالف قرار دیا ہے ۔ حالانکہ یہ خدشہ سراسر بے اصل ہے۔ ظاہر ہے کہ بچے الہام کا تابع عقلی تحقیقاتوں سے رک نہیں سکتا ۔ بلکہ حقائق اشیاء کو معقول طور پر دیکھنے کے لئے الہام سے مدد پاتا ہے اور الہام کی حمایت اور اس کی روشنی کی برکت سے عقلی وجوہ میں کوئی دھوکا اس کو پیش نہیں آتا اور نہ خطا کار عاقلوں کی طرح بے جا دلائل رسالہ عبدالمسیح ابن اطلق الکندی اسی غرض س افترا کیا گیا ہے کہ تا انجیل کی ناقص اور آلودہ تعلیم کو سادہ لوحوں کی نظر میں کسی طرح قابل تعریف ٹھہرایا جائے اور قرآنی تعلیم پر بے جا الزامات لگائے جائیں۔ مگر نادان عیسائی نہیں جانتے کہ بلا دلیل ایک کتاب کی تعریف کرنا اور ایک کی مذمت کرتے رہنا نہ کسی کتاب کو قابل تعریف ٹھہراتا ہے نہ قابل مذمت۔ بیہودہ طور پر مونہہ سے بات نکالنا کون نہیں جانتا۔ لیکن جس حالت میں ہم نے اسی کتاب میں انجیلی تعلیم کا حقانیت سے بے نصیب ہونا اور قرآنی تعلیم کا مجمع الانوار ہونا صد با دلائل سے ثابت کر دیا ہے اور اس پر نہ صرف دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا بلکہ ہمارا خداوند کریم کہ جو دلوں کے پوشیدہ بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔ اس بات پر گواہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے کہ جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو۔ تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔ اب منصفو! نظر کرو اور خدا کے واسطے ذرہ دل کو صاف کر کے سوچو کہ ہمارے مخالفوں کی ایمانداری اور خدا ترسی کس قسم کی ہے کہ باوجو دلا جواب رہنے کے پھر بھی فضول گوئی سے باز نہیں آتے۔ آؤ عیسائیو ادھر آؤ نور حق دیکھو راہ حق پاؤ جس قدر خوبیاں ہیں فرقان میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ کا ۲۶۸