براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 295
روحانی خزائن جلد ۱ بنا لاؤ۔ جس میں وہ سب مضمون ، نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا حاشیه در حاشیه نمبر ۲ معہ ۲۹۳ براہین احمدیہ حصہ سوم اپنے تمام دقائق حقائق کے آجائے اور (۲۶۴) اور مزاحم ہے ۔ اور تقریر اس اعتراض کی یوں کرتے ہیں کہ الہام خیالات کی ترقی کو (۲۶۴) روکتا ہے اور تحقیقات کے سلسلہ کو آگے چلنے سے بند کرتا ہے ۔ کیونکہ الہام کے پابند ہونے کی حالت میں ہر یک بات میں یہی جواب کافی سمجھا جاتا ہے کہ یہ امر ہماری الہامی کتاب میں جائز یا نا جائز لکھا ہے ۔ اور قومی عقلیہ کو ایسا معطل اور بیکار چھوڑ دیتے (۲۶۵) ر ہے۔ اور کسی زمانہ میں جھوٹ بچی کا مقابلہ نہ کر سکے۔ امت محمدیہ کو انتہاء زمانہ تک یہ دو مجرے یعنے اعجاز کلام قرآن اور اعجاز اثر کلام قرآن عطا فرمائے ہیں جن کے مقابلہ سے مذاہب باطلہ ابتداء سے عاجز چلے آتے ہیں۔ اور اگر صرف اعجاز کلام قرآن کا معجزہ ہوتا اور اعجاز اثر قرآن کا معجزہ نہ ہوتا تو امت مرحومہ محمدیہ کو آثار اور انوار ایمان میں کیا زیادتی ہوتی کیونکہ مجرد زہد اور عفت اعجاز کی حد تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیا ممکن نہیں کہ کوئی پادری یا پنڈت یا بر ہم اپنی فطرت سے ایسا سلیم ہو کہ بطور ظاہری عفت اور زہد اور دیانت کا طریق اختیار کرے۔ پھر جس حالت میں زہد خشک ہر ایک فرقہ میں ممکن ہے تو مومن اور غیر مومن میں من حیث الآثار ما بہ الامتیاز کیا رہا ۔ حالانکہ اہل حق اور اہل باطل میں من حیث الآثار ما بہ الامتیاز ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر مومن بھی آسمانی نوروں سے ایسا ہی بے نصیب ہو جیسے (۲۶۴) ایک بے ایمان بے نصیب ہے تو اس کے ایمان کا کونسا نو ر اس دنیا میں ظاہر ہوا اور ایمان کو بے ایمانی پر کیا ترجیح ہوئی اور خود جس حالت میں اعجاز اثر قرآن ظاہر ہے جس میں تسلی کر دینے کے لئے ہم آپ ہی متکفل ہیں تو پھر باوجود اس بدیہی دلیل کے طوالت کلام کی کچھ حاجت نہیں جس کو شک ہو وہ آزمادے جس کو شبہ ہو وہ تجربہ کر لیوے اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو امر بذریعہ الہام الہی کسی پر امام الہام کامل اور حقیقی کہ جو ہر ہمو سماج والوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کے ہر یک قسم کے وساوس کو (۲۶۴) نکلی دور کرتا ہے اور طالب حق کو مرتبہ یقین کامل تک پہنچاتا ہے۔ وہ فقط قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جو تمام فرقوں کے اوہام باطلہ کو دور کر سکے اور انسان کو حق الیقین کے درجہ