براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 278

روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ س نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الہیات کا نہایت بار یک دقیقہ پیدا سب سے زیادہ انہیں پر مصیبتیں پڑتیں لیکن یہ وسوسہ بالکل بے اصل ہے جو سراسر کم تو جہی سے پیدا ہوتا ہے۔ الہامی خبروں کا قادرانہ طور پر بیان ہونا شے دیگر ہے اور انبیاء کی مصیبتیں ایک دوسرا امر ہے کہ حکمتوں پر مشتمل ہے اور حقیقت حال پر مطلع ہونے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ مصیبتیں اصل میں مصیبتیں نہیں بلکہ بڑی بڑی نعمتیں ہیں کہ جو انہیں کو دی جاتی ہیں جن پر خدا کا فضل اور کرم ہوتا ہے اور یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ جن میں نبیوں اور تمام دنیا کو فائدہ ہے اس جگہ تحقیق کلام یہ ہے کہ انبیاء مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جودین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی ۔ تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی والحمد للہ علی ذلک۔ میہ وہ خواب ہے کہ تقریباً دوسو آدمی کو انہیں دنوں میں سنائی گئی تھی جن میں سے پچاس یا کم و بیش ہندو بھی ہیں کہ جو اکثر ان میں سے ابھی تک صحیح و سلامت ہیں اور وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام و نشان نہ تھا اور نہ یہ مرکوز خاطر تھا کہ کوئی دینی کتاب بنا کر اس کے استحکام اور سچائی ظاہر کرنے کے لئے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اب وہ باتیں جن پر خواب دلالت کرتی ہے کسی قدر پوری ہو گئیں اور جس قطبیت کے اسم سے اُس وقت کی خواب میں کتاب کو موسوم کیا گیا تھا۔ اسی قطبیت کو اب مخالفوں کے مقابلے پر بوعدہ انعام کثیر پیش کر کے حجت اسلام ان پر پوری کی گئی ہے۔ اور جس قد را جزا اس خواب کے ابھی تک ظہور میں نہیں آئے ان کے ظہور کا سب کو منتظر رہنا چاہئے کہ آسمانی با تیں کبھی ٹل نہیں سکتیں ۔ ۲۵۰ ۲۵۰