براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 275
روحانی خزائن جلد 1 ۲۷۳ براہین احمدیہ حصہ سوم حقائق النہیات پر حاوی ہے۔ تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب ﴿۲۴۷ بقیه حاشیه نمبر ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا محمد و اله واصحابه و بارک وسلم ۲۴۷ اس زمانے کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریہ اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں۔ وہ آسمانی نور کدھر ہیں جن میں امت مرحومہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح اور موسیٰ کی برکتوں میں شریک ہے۔ اور ان نوروں کی وارث ہے جن سے اور تمام قو میں اور تمام اہل مذاہب محروم اور بے نصیب ہیں۔ اس وسوسہ کے دور کرنے کے لئے بارہا ہم نے اسی حاشیے میں لکھ دیا ہے کہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے فضائلِ خاصہ دیکھ کر فی الفور مسلمان ہونے پر مستعد ہے۔ اس ثبوت دینی کے ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ اور حاشیہ در حاشیہ صورت دوم میں اسی کی طرف ہم نے صریح اشارہ کیا ہے۔ بلکہ خدائے تعالیٰ جس جس طرح پر تفرید کی طرف کھینچ لاتی ہیں اور اگر تھوڑے دن ہنسی اور ملامت کا موجب ٹھہریں تو ان ۲۴۷ ٹھٹھوں اور ملامتوں کا برداشت کرنا خادم دین کے لئے عین سعادت اور فخر ہے ۔ والذین يبلغون رسالات ربهم لا يخافون لومة لائم صورت سوم الہام کی یہ ہے کہ نرم اور آہستہ طور پر انسان کے قلب پر القا ہوتا ہے۔ یعنے یک مرتبہ دل میں کوئی کلمہ گذر جاتا ہے۔ جس میں وہ عجائبات به تمام و کمال نہیں ہوتے کہ جو دوسری صورت میں بیان کئے گئے ہیں ۔ بلکہ اس میں ربودگی اور غنودگی بھی شرط نہیں ۔ بسا اوقات عین بیداری میں ہو جاتا ہے اور اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کہ گویا غیب سے کسی نے وہ کلمہ دل میں پھونک دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔ انسان کسی قدر بیداری میں ایک استغراق اور محویت کی حالت میں ہوتا ہے۔ اور کبھی بالکل بیدار ہوتا ہے کہ ایک دفعہ دیکھتا ہے کہ ایک نو وارد کلام اس کے سینہ میں داخل ہے یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاوہ کلام دل میں داخل ہوتے ہی اپنی پر زور روشنی ظاہر کر دیتا ہے اور انسان متنبہ ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ القا ہے اور صاحب ذوق کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تنفسی ہوا اندر جاتی اور تمام دل وغیرہ اعضاء کو راحت پہنچاتی ہے۔ ویسا ہی وہ