براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 272
روحانی خزائن جلد ۱ 11 براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۲۴ نہ مل سکے کہ جو اس سے باہر رہ گئی ہو۔ یہ انسان کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حد قدرت میں محفوظ چلی آتی ہے اور لاکھوں قرآن شریف کے حافظ ہیں کہ جو قدیم سے چلے آتے ہیں۔ خدا نے کہا تھا کہ میری کتاب کا کوئی شخص حکمت میں، معرفت میں، بلاغت میں ، فصاحت میں، احاطہ علوم ربانیہ میں بیان دلائل دینیہ میں مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ سو دیکھو کسی سے مقابلہ نہیں ہو سکا۔ اور اگر کوئی اس سے منکر ہے۔ تو آب کر کے دکھلا دے اور جو کچھ ہم نے اس کتاب میں جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی شامل ہے۔ حقائق و دقائق و عجائبات قرآن شریف کے کہ جو انسانی کیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔ وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہو سکے۔ دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائی سے ثابت ہوتی ہے اور حقیقت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ تر و تازہ ہوتا رہتا ہے۔ صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے ۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہو جاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلت اور رسوائی اور روسیاہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈتوں وغیرہ میں ثابت نہیں کر سکتے ۔ ايها الصادق في الطلب ایدک اللہ فی طلبک۔ اس جگہ بعض خاموں کے دلوں میں یہ وہم بھی گزرسکتا ہے کہ اس مندرجہ بالا الہامی عبارت میں کیوں ایک مسلمان کی تعریفیں لکھی ہیں۔ سوسمجھنا چاہئے کہ ان تعریفوں سے دو بزرگ فائدے متصور ہیں جن کو حکیم مطلق نے خلق اللہ کی بھلائی کے لئے مد نظر رکھ کر ان تعریفوں کو بیان فرمایا ہے ۔ ایک یہ کہ تانبی متبوع کی متابعت کی تاثیر میں معلوم ہوں اور تا عامہ خلائق پر واضح ہو کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدرشان بزرگ ہے۔ اور اس آفتاب صداقت کی کیسی اعلیٰ درجہ پر روشن تاثیریں ہیں۔ جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے۔ کسی کو عارف کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا فتدبر