براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 270
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۶۸ براہین احمدیہ حصہ سوم (۲۲۲) جس کی صداقت میں ایک ادنی عقل کے آدمی کو بھی شک نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ہر یک عقل سلیم پر روشن ہے کہ ہر یک نوع کی دینی سچائیاں اور الہیات کے تمام حقائق اور معارف اور (۲۳) ۲۴۳ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا بجز چند بے سامان درویشوں کے اور کچھ نہ تھا اور تمام مسلمان صرف اس قدر تھے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں سما سکتے تھے اور انگلیوں پر نام بنام گنے جاسکتے تھے جن کو ایک گانو کے چند آدمی ہلاک کر سکتے تھے ۔ جن کا مقابلہ اُن لوگوں سے پڑا تھا کہ جو دنیا کے بادشاہ اور حکمران تھے اور جن کو اُن قوموں کے ساتھ سامنا پیش آیا تھا کہ جو باوجود کروڑوں مخلوقات ہونے کے اُن کے ہلاک کرنے اور نیست و نابود کرنے پر متفق تھے مگر اب دنیا کے کناروں تک نظر ڈال کے دیکھو کہ کیونکر خدا نے انہیں نا تو ان اور قدر قلیل لوگوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔ الیک من ربك ولا تصعر لخلق الله ولا تسئم من الناس۔ اصحاب الصفة وما ادراك ما اصحاب الصفة ترى اعينهم تفيض من الدمع۔ يصلون عليك۔ ربنا اننا سمعنا مناديا ينادى للايمان و داعيا الى الله وسراجا منيرا۔ املوا۔ اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ امتی آں رسول مقبول کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہو سکے۔ بلاشبہ یہ یہی بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالات قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو مگر اے طالب حق ارشدک اللہ تم متوجہ ہو کر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعائیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔ اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلیل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے