براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 264

روحانی خزائن جلد 1 ۲۶۲ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۷ افراد مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا ذکر یا علاج قرآن شریف سے دریافت کرنا چاہے۔ تو وہ جس طور سے اور جس باب میں آزمائش کرنا چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کہ ۲۳۸ هر یک دینی صداقت اور حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط ہے ۲۳۸ ۲۳۷ بقيه ل وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبّی کافروں کو کہہ کہ اگر تم خدا کی بندگی نہ کرو تو وہ تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے۔ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَبْتُمْ سو تم نے بجائے طاعت اور بندگی کے جھٹلا نا اختیار کیا۔ سو عنقریب اس کی فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ل سزا تم پر وارد ہونے والی ہے اور تم یقین جانو کہ تم خدا کو اس کے کاموں میں کبھی عاجز نہیں کر سکتے اور خدا تمہیں رسوا کرے گا۔ وہ لوگ کہ جو مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مخرى التفريفت و این تمہارے ناحق کے جنگوں اور قل کے ارادوں سے ظلم رسیدہ ہیں ۔ سے ہیں ۔ انکی لِلَّذِينَ يُقْتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ نسبت مدد دینے کا حکم ہو چکا ہے اور خدا انکی مدد پر قادر ہے ۔ وہ خدا وہ ۔ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى کریم و رحیم ہے جس نے امیوں میں انہیں میں سے ایک ایسا کامل رسول نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ٣ هُوَ بھیجا ہے کہ جو باوجود امی ہونے کے خدا کی آیات ان پر پڑھتا ہے۔ اور الَّذِي بَعَثَ فِي الأَمينَ انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے اگر چہ وہ لوگ اس نبی رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا کے ظہور سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے اور انکے گروہ میں عَلَيْهِم اليه ويزكيهم سے اور ملکوں کے لوگ بھی ہیں جن کا اسلام میں داخل ہونا ابتدا سے قرار وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ پاچکا ہے اور ابھی وہ مسلمانوں سے نہیں ملے ۔ اور خدا غالب اور حکیم ہے لَفِي ضَلٍ مبین جسکا فعل حکمت سے خالی نہیں ۔ یعنی جب وہ وقت آ پہنچے گا کہ جو خدا نے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا اپنی حکمت کاملہ کے لحاظ سے دوسرے ملکوں کے مسلمان ہونے کیلئے مقرر بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، کر رکھا ہے۔ تب وہ لوگ دین اسلام میں داخل ہو نگے ۔ تو یہ امر اس کیلئے موجب مزید معرفت اور باعث عرفان کامل ہو جاتا ہے۔ بندہ کا دعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تجلی سے ہر یک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہ گویا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کیلئے بلا تقاوت یکساں ہو جاتے ہیں ۔ جب بندہ اپنی کسی حاجت کے وقت بار بار اپنے مولیٰ کریم سے کوئی عقدہ پیش آمدہ دریافت کرتا ہے اور عرض حال کے بعد حضرت خداوند کریم سے جواب پاتا ہے ۔ اسی طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کی بات کا جواب دیتا ہے اور جواب ایسا ہوتا ہے کہ نہایت فصیح اور الفرقان : ۲۷۸ التوبة : ٣٢ الحج : ۴۴۰ الجمعة : ۳، ۴