براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 260

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۴ ۲۳۳ کفایت کرتی ہے۔ مثلاً ایک یہ وجہ بے نظیری کہ وہ با وجود اس قد را یجا ز کلام کے کہ اگر اس کو متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چارجز میں آ سکتا ہے ۔ پھر تمام دینی صداقتوں پر ۲۳۴ کہ جو بطور متفرق پہلی کتابوں میں اور انبیاء سلف کے صحیفوں میں پراگندہ اور منتشر تھیں مشتمل ہے۔ اور نیز اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان محنت اور کوشش اور جانفشانی تخلف وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ وہ وعدے مل جائیں گے کہ جو اس نے اپنے رسول کو دیے دوانيتا لا ترانك إلى معاد مع ہیں۔ خدا غالب اور بدلہ لینے والا ہے اور تجھے اس جگہ پھیر أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ۔ ۳ یا تھا لائے گا جہاں سے تو نکالا گیا ہے یعنے مکہ میں جس سے کفار الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى تِجَارَةٍ نے آنحضرت کو نکال دیا تھا۔ یاد رکھو کہ خدا کی مدد بہت ہی تنجيكم من عذاب الیم تؤمنون قریب ہے۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ۔ کیا میں تمہیں ایک بِاللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي ایسی تجارت کی طرف رہبری کروں کہ جو تم کو عذاب الیم سے سَبِيْلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُم نجات بخشے ۔ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے کوشش کرو کہ یہی تمہارے يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَ يُدْخِلُكُمْ لئے بہتر ہے۔ اس سے خدا تمہارے گنا ہوں کو بخشے گا اور جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ صدیق آیا ہے۔ اور ان لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی مشابہ ہوتا ہے۔ یعنے جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں سخت درجہ پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے ۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے۔ اور حق سے جنسی کی جاتی ہے۔ اور باطل کی تعریف ہوتی ہے۔ اور کاذبوں کو راستباز قرار دیا جاتا ہے۔ اور دجالوں کو مہدی سمجھا جاتا ہے۔ اور دنیا مخلوق اللہ کی نظر میں بہت ۲۳۴ پیاری معلوم ہوتی ہے جس کی تحصیل کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں ۔ اور دین ان کی نظر میں ذلیل اور خوار ہو جاتا ہے۔ ایسے وقتوں میں وہی لوگ حجت اسلام ٹھہرتے ہیں جن کا الہام یقینی اور قطعی ہوتا ہے اور جو ان کامل افراد کے قائم مقام ہوتے ہیں جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے جس کا بقیه حاشیه ابراهیم ۴۷ ۴۸ القصص: ۸۲ ۳ البقرة: ۲۱۵