براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 259

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۷ براہین احمدیہ حصہ سوم جن کے جاننے اور معلوم کرنے کیلئے کچھ بھی لیاقت عربی درکار نہیں ۔ بلکہ اس درجہ پر ۲۳۲ بدیہی اور واضح ہیں کہ ادنیٰ عقل جو انسانیت کیلئے ضروری ہے اُن کے سمجھنے کیلئے نمبراا بقيه مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ یعنے اپنے منجانب اللہ ہونے پر آپ ہی روشن دلیلیں ہیں اور ایمانداروں يُؤْمِنُوْنَ ، وَ يُرِيدُ اللهُ أَنْ تُحِق کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ خدا کا یہ ارادہ ہورہا ہے کہ اپنے کلام سے الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ حق کو ثابت کرے اور کافروں کے عقائد باطلہ کو جڑھ سے کاٹ دے تا الْكُفِرِينَ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِل الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ، وَ اِذْ يَمْكُرُبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ | أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَ بچے مذہب کی سچائی اور جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ ثابت کر کے دکھلاوے اگر چہ مجرم لوگ کراہت ہی کریں۔ اور تو وہ وقت یاد کر کہ جب کافر لوگ تیرے قید کرنے یا قتل کرنے یا نکال دینے پر مکر کر کے منصوبے باندھتے يَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللهُ خَيْرُ تھے اور مکر کر رہے تھے اور خدا بھی مکر کر رہا تھا۔ اور خدا اسب مکر کرنے والوں الْمُكِرِينَ ۔ وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمُ سے بہتر ہے۔ سو جہاں تک ان کا بس چل سکا۔ انہوں نے مکر کیا اور وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمُ ان کے سارے مکر خدا کے قبضہ میں ہیں اور اگر چہ ان کے مکر ایسے ہوں لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ فَلَا تَحْسَبَنَّ الله کہ جن سے پہاڑ مل جائیں تب بھی یہ گمان مت کر کہ ان سے خدا کے میں فنا ہو جائیں اور ظاہر اور باطناً اس کی پیروی اختیار کریں یہ تبعیت اسی رسول کے اس کی برکتوں میں سے عنایت کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ صرف زہد خشک تک رکھنا چاہتا ہے۔ اور جب کسی دل پر نبوی برکتوں کا پر توہ پڑے گا تو ضرور ہے کہ اس کو اپنے متبوع کی طرح علم یقینی قطعی حاصل ہو ۔ کیونکہ جس چشمہ کا اس کو وارث بنایا گیا ہے وہ شکوک اور شبہات کی کدورت سے بکلی پاک ہے اور منصب وارث الرسول ہونے کا بھی اسی بات کو چاہتا ہے کہ علم باطنی اس کا یقینی اور قطعی ہو۔ کیونکہ اگر اس کے پاس صرف مجموعہ ظنیات کا ہے تو پھر وہ کیونکر اس ناقص مجموعہ سے کوئی فائدہ خلق اللہ کو پہنچا سکتا ہے۔ تو اس صورت میں وہ آدھا وارث ہوا نہ پورا ۔ اور یک چشم ہوا نہ دونوں آنکھوں والا ۔ اور جن ضلالتوں کی مدافعت کے لئے خدا نے اس کو قائم کیا ہے۔ ان ضلالتوں کا نہایت پر زور ہونا ۔ اور زمانہ کا نہایت فاسد ہونا اور منکروں کا نہایت مکار ہونا۔ اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا ۔ اور مخالفوں کا اشرفی الکفر ہونا اس بات کے لئے بہت ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو۔ اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں الاعراف: ۲۲۰۴ الانفال: ۳۹۸ الانفال: ۳۱ ۲۳۳ ۲۳۳