براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 258

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۲ ۲۳۱ راہیں انکے دریافت کرنے کی مسدود ہیں۔ ہرگز نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ یہ بات ہر یک اہل علم پر واضح ہے کہ اکثر وجوہ بینظیری فرقان کی ایسی سہل اور سریع الفہم ہیں کہ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ وَاِنَّ اور ہمیشہ ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ سو اس وقت تک کہ وہ وعدہ پورا ہو جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَلِبُوْنَ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ان سے منہ پھیرے رہ اور انکو وہ راہ دکھلا پس عنقریب وہ آپ دیکھ لیں حَتَّى حِيْنٍ وَابْصِرُهُمْ فَسَوْفَ گے ۔ اور تجھ سے پہلے جو نبی آئے انکی بھی تکذیب کی گئی تھی۔ پس يُبْصِرُونَ ۔ وَلَقَدْ كَذِبَتْ رُسُل انہوں نے تکذیب پر صبر کیا اور ایک مدت تک دکھ دیئے گئے یہاں تک مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا کہ ہماری مددانکو پہنچ گئی۔ چنانچہ گذشتہ رسولوں کی خبریں بھی تجھ کو آ چکی ۲۳۲ كُذِبُوا وَ أَوذُوا حَتَّى أَتْهُمْ نَصْرُنَا وَلَا | ہیں۔ اور جس دن تو انکو کوئی آیت نہیں سناتا۔ اس دن کہتے ہیں کہ مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَنِى الْمُرْسَلِينَ ۔ آج تو نے کوئی آیت کیوں نہ گھڑی۔ انکو کہ کہ میں تو اسی کلام کی وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِايَةٍ قَالُوا لَو لَا پیروی کرتا ہوں کہ جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر نازل ہو رہا ہے اجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَا اتَّبِعُ مَا يُولّی اپنے دل سے گھڑ لینا میرا کام نہیں اور نہ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جنکو انسان إِلَى مِنْ رَّبِّي هَذَا بَصَابِرُ اپنے افترا سے گھڑ سکے۔ یہ تو میرے رب کی طرف سے بصائر ہیں۔ اس کی ذات میں بخل نہیں۔ اسکے فضلوں کا کوئی انتہا نہیں اور ترقیات معرفت کی کوئی حد نہیں۔ ہاں پہلے اس نے اظہار علی الغیب کی نعمت اور علم لدنی یقینی قطعی کی دولت اپنے برگزیدہ رسولوں کو دی۔ مگر پھر یہ تعلیم دے کر کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تمام بچے طالبوں کو خوشخبری دی کہ وہ اپنے رسول مقبول کی تبعیت سے اس علم ظاہری اور باطنی تک پہنچ سکتے ہیں کہ جو بالاصالت خدا کے نبیوں کو دیا گیا۔ انہیں معنوں کر کے تو علماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں۔ اور اگر باطنی علم کا ورثہ انکو نہیں مل سکتا۔ تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے ہوئے۔ کیا آنحضرت نے فرمایا نہیں کہ اس امت میں محدث ہوں گے و قال الله تعالی وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا " وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا "۔ اب تم سوچو کہ اگر علم لدنی کا سارا مدارظنیات پر ہے تو پھر اسکا نام علم کیونکر ہوگا۔ کیا خنیات بھی کچھ چیز ہیں جن کا نام علم رکھا جائے۔ پس اس صورت میں وَعَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا علما کے کیا معنے ہوں گے۔ پس جاننا چاہئے کہ خدا کے کلام پر غور صحیح کرنے سے اور صد ہا تجارب مشہودہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ افراد خاصہ امت محمدیہ کو جب وہ متابعت اپنے رسول مقبول الصفت: ۱۷۲ تا ۱۷۶ ک الانعام: ۳۳۵ العنكبوت :20 طه ۱۱۵ ۵ الكهف: ۶۶