براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 257
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۵ براہین احمدیہ حصہ سوم کی تمام وجوہ عربی دانی پر ہی موقوف ہیں یا تمام عجائبات قرآنیہ اور جمیع خواص عظمی فرقانیہ صرف عربوں پر ہی کھل سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے تمام نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه فَعَطَى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاخَذْنُهُ أَخَذًا موجب فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس سے ایسا مواخذہ ۲۳۱ وَبِيْلًا فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ إِنْ كَفَرْتُم کیا کہ جس کا انجام و بال تھا یعنے اسی مواخذہ سے فرعون نیست و نابود کیا أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَيكُمْ آمْ لَكُم گیا سو تم جو بمنزلہ فرعون ہو ہمارے مواخذہ سے کیونکر نا فرمان رہ کر بچ سکتے بَرَاءَةُ فِي الزُّبُرِ أَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ ہو۔ کیا تمہارے کا فر فرعونی گروہ سے کچھ بہتر ہیں یا تم خدا کی کتابوں جَمِيعُ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ میں معذب اور ماخوذ ہونے سے مستثنیٰ اور بری قرار دیئے گئے ہو۔ کیا وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی قوی جماعت ہے کہ جو كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ زبر دست اور تحمند ہے عنقریب یہ ساری جماعت پیٹھ پھیرتے ہوئے أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّی بھاگے گی اور ہمیشہ ان کافروں کو کوئی نہ کوئی کوفت پہنچتی رہے گی یہاں يَأْتِي وَعْدَ اللَّهِ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِف تک کہ وہ وقت موعود آ جائے گا جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے خدا تخلف الْمِيْعَادَ ٣٠ وَلَقَدْ سَبَقت وعدہ نہیں کرے گا اور رسولوں کے حق میں پہلے سے ہماری یہ بات قرار كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ۔ پاچکی ہے کہ ہمیشہ نصرت اور فتح انہیں کے شامل حال رہے گی۔ جان سے زیادہ چاہتا ہے اور اپنی جان کی ساری طاقتوں سے اور اپنے وجود کی تمام قوتوں سے اس کی طرف دوڑتا ہے۔ کیا خدا اس پر رحم نہیں کرتا۔ کیا وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ کیا اس کی دعائیں قبولیت کے لائق نہیں۔ کیا اس کی فریادیں کبھی خدا تک نہیں پہنچ سکتیں۔ کیا خدا اسے ناکامی کی حالت میں ہلاک کر دے گا۔ کیا وہ ہزاروں دردوں کے ساتھ قبر میں اترے گا اور خدا اس کا علاج نہیں کرے گا۔ کیا وہ مولیٰ کریم اسے رو کر دے گا ۔ اور چھوڑ دے گا۔ کیا خدا اپنے صادق اور فرمانبردار طالب کو اپنے نبیوں کا راہ نہیں دکھلائے گا۔ اور اپنی خاص نعمت سے متمتع نہیں کرے گا۔ بلا شبہ وہ اپنے طالبوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس کی طرف دوڑتے ہیں وہ ان کی طرف ان ۲۳۱ سے بہت زیادہ دوڑتا ہے۔ جو لوگ اس کا قرب چاہتے ہیں وہ ان سے بہت ہی قریب ہو جاتا ہے۔ وہ انکی آنکھیں ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ اور ان کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ اب تم آپ ہی سوچو کہ جس کی آنکھیں اور کان وہ عالم الغیب ہے کیا ایسا شخص اپنے لدنی علم میں نوریقین تک نہیں پہنچے گا۔ اور فنون میں ڈوبا رہے گا۔ تم یقیناً سمجھو کہ صادقوں کے لئے اسی قدر اس کے دروازے کھل جاتے ہیں جس قدر ان کے صدق کا اندازہ ہے۔ اس کے خزائن میں کمی نہیں۔ المزمل: ۱۲ تا ۱۸ ۲ القمر : ۴۴ تا ۳۴۶ الرعد: ۳۲