براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 253
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۱ براہین احمدیہ حصہ سوم قرآن کی بے نظیری کو کسی صاحب علم سے معلوم کر یں ۔ بلکہ فرقانی نوروں کو دیکھ کر دوسری طرف مونہہ پھیر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کسی قدر پر تو اس نور کا ان پر پڑ جائے ۔ (۲۲۷) ولقد ار سَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إائی اور ہم نے تجھ سے پہلے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے اور وہ بھی (۲۲۷ کے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا قَوْمِهِمْ فَجَاءَ وَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَانتَقَمْنَا روشن نشان لائے۔ پس آخر ہم نے ان مجرم لوگوں سے بدلہ لیا۔ مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا جنہوں نے ان نبیوں کو قبول نہیں کیا تھا اور ابتداء سے یہی مقرر ہے کہ نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَقَدِ اسْتَهْزِئ مومنوں کی مد کرنا ہم پر ایک حق لازم ہے یعنے قدیم سے عادت الہیہ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ اسی طرح پر جاری ہے کہ سچے نبی ضائع نہیں چھوڑے جاتے اور ان کی سَخِرُوا مِنْهُمْ مَّا كَانُوا یہ جماعت متفرق اور پراگندہ نہیں ہوتی بلکہ ان کو مددملتی ہے اور تجھ سے يستهزا ون قُل سِيرُوا فِي الْأَرْضِ پہلے بھی پیغمبروں سے نفسی اور ٹھٹھا ہوتا رہا ہے۔ مگر ہمیشہ ٹھٹھا کرنے ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ والے اپنے ٹھٹھے کا بدلہ پاتے رہے ہیں۔ ان کو کہہ کہ زمین کا سیر کر کے الْمُكَذِّبِينَ۔ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِلَ دیکھو کہ جو لوگ خدا کے نبیوں کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کا کیا انجام ہوا عَلَيْهِ ايَةٌ مِنْ به گل انا اللہ قادر ہے۔ اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے کیوں عَلَى أَنْ يُنَزِلَ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ نازل نہ ہوئی۔ کہ خدانشانوں کے نازل کرنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ اس ضلع میں اکسٹرا اسٹنٹ تھے قادیان میں آگئے ۔ ان کو بھی اس الہام سے اطلاع دی گئی۔ اور مجھے بخوبی یاد ہے کہ اسی ہفتہ میں میں نے آپ کے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو بھی اس الہام سے اطلاع دی تھی۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ اس الہام کے بعد میں نے حسب الارشاد حضرت احدیت کسی قدر تحریک کی تو تحریک کرنے کے بعد لاہور ۔ پشاور ۔ راولپنڈی۔ کوٹلہ مالیر اور چند دوسرے مقاموں سے جس قدر اور جہاں سے خدا نے چاہا اس حصہ کے لئے جو چھپتا تھا۔ مدد پہنچ گئی۔ والحمد للہ علی ذالک۔ اور اسی الہام کی قسم میں اور انہیں دنوں میں ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ایک دن صبح کے وقت کچھ تھوڑی غنودگی میں یکدفعہ زبان پر جاری ہوا۔ عبداللہ خان ڈیرہ اسمعیل خان۔ چنانچہ چند ہندو کہ جو اس وقت میرے پاس تھے ۔ کہ جو ابھی تک ۳۲۷ اسی جگہ موجود ہیں۔ ان کو بھی اس سے اطلاع دی گئی۔ اور اسی دن شام کو جو اتفاقا نہیں ہندوؤں میں سے ایک شخص ڈاک خانہ کی طرف گیا۔ تو وہ ایک صاحب عبد اللہ خان نامی کا ایک خط لا یا جس کے الروم: ۴۸ الانعام: ۱۲،۱۱