براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 252

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۵۰ براہین احمدیہ حصہ سوم (۲۲) حجت نہیں ہو سکتی اور نہ وہ اس سے منتفع ہو سکتے ہیں ۔ اما الجواب واضح ہو کہ یہ عذر خام انہیں لوگوں کا ہے جنہوں نے دلی صدق سے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی کہ إلا لتنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذین امنوا ہمارا قانون قدرت یہی ہے کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمانداروں کو دنیا اور فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ آخرت میں مدد دیا کرتے ہیں۔ خدا نے یہی لکھا ہے کہ میں اور میرے الْأَشْهَادُ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَن پیغمبر غالب رہیں گے خدا بڑی طاقت والا اور غالب ہے۔ اور کافر تجھے خدا آنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ کے سوا اور چیزوں سے ڈراتے ہیں ان کو کہہ کہ تم میرے مغلوب کرنے عَزِيزٌ ۔ وَيُخَوِّفُوْنَكَ کیلئے اپنے معبودوں سے کہ جو تمہارے زعم میں خدا کے شریک ہیں مدد بِالَّذِيْنَ مِنْ دُونِهِ ۳ قُلِ طلب کرو اور میرے نا کام رہنے کیلئے ہر یک طور کا مکر کرو اور مجھے ذرا ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ إِنَّ وَلِي الله مہلت مت دو۔ میرا کارساز وہ خدا ہے جس نے اپنی کتاب کو نازل کیا ہے الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَبَ وَهُوَ يَتَوَفَّى اور اس کا یہی قانون قدرت ہے کہ وہ صالحین کے کاموں کو آپ کرتا ہے الصلِحِينَ ع وَاصْبِرْ لِحُكْمِ اور ان کی مہمات کا خود متولی ہوتا ہے اور اپنے خداوند کے حکم پر صبر کر اور صبر رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ، اسے اسکے وعدوں کا انتظار کر تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ خدا تجھے وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ 1 ان لوگوں کے شر سے بچائے گا کہ جو تیر ے قتل کرنے کی گھات میں ہیں۔ خاکسار کو ہوا۔ تو قریب دس یا پندرہ ہندو اور مسلمان لوگوں کے ہوں گے کہ جو قادیان میں اب تک موجود ہیں جن کو اسی وقت اس الہام سے خبر دی گئی اور پھر اسی کے مطابق جیسے لوگوں کی طرف سے عدم تو جہی رہی۔ وہ حال بھی ان تمام صاحبوں کو بخوبی معلوم ہے۔ دوسری قسم الہام کی یعنے وہ تم جس میں کچھ ملائمت سے کلمات زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ اس قسم میں اپنے ذاتی مشاہدات میں سے صرف اس قدرلکھنا کافی ہے کہ جب پہلے الہام کے بعد جس کو میں ابھی ذکر کر چکا ہوں ایک عرصہ گزر گیا اور لوگوں کی عدم توجہی سے طرح طرح کی دقتیں پیش آئیں اور مشکل حد سے بڑھ گئی تو ایک دن قریب مغرب کے خداوند کریم نے بیا الہام کیا ۔ ہزالیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا ۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک کے اس حصہ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہو گا۔ اور اس کی خبر بھی بدستور کئی ہندو اور مسلمانوں کو دی گئی اور اتفاقاً اسی روز یا دوسرے روز حافظ ہدایت علی خان صاحب کہ جو ان دنوں المؤمن : ۲:۵۲ :المجادلة: ۳۲۲ الزمر : ٣٧ ٤ الاعراف: ۱۹۶ ۱۹۷ ۵ـ الطور : ۱۴۹ المائدة : ۶۸