براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 251

روحانی خزائن جلد 1 ۲۴۹ براہین احمد یہ حصہ سوم بقیه حــ حاشیه ه نمـ نمبر کسی واضح دلیل سے ثابت کرنی چاہئے ۔ کیونکہ اس کی بے مثل بلاغت پر صرف ۲۲۵ و ہی شخص مطلع ہو سکتا ہے جس کی اصل زبان عربی ہو ۔ اور لوگوں پر اس کی بے نظیری قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُو اسْتَغْلَبُونَ وَ کافروں کو کہہ دے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور پھر آخر جہنم میں ۲۲۵ تُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ پڑو گے۔ جو کچھ تمہیں وعدہ میں وعدہ دیا جاتا ہے یعنے دین اسلام کا عزت کے الْمِهَادُ إِنَّ مَا تُوْعَدُونَ لَاتٍ ساتھ دنیا میں پھیل جانا اور اسکے روکنے والوں کا ذلیل اور رسوا ہونا۔ یہ وَ مَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ ، وَقَالَتِ وعدہ عنقریب پورا ہو نیوالا ہے اور تم ہرگز اسکو روک نہیں سکو گے۔ یہود الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ نے کہا کہ خدا کا ہاتھ باندھا ہوا ہے یعنے جو کچھ ہے انسان کی تدبیروں أَيْدِيهِمْ ٣ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمْ سے ہوتا ہے اور خدا اپنے قادرا نہ تصرفات سے عاجز ہے۔ سوخدا نے - الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا ہمیشہ کیلئے یہودیوں کے ہاتھ کو باندھ دیا ہے تا اگر انکے فکر اور ان کی بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ تدبیریں کچھ چیز ہیں تو انکے زور سے دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں النَّاسِ وَبَاءُ وَ بِغَضَبٍ مِن حاصل کر لیں۔ ان پر ذلت کی مار ڈالی گئی ہے۔ یعنی جہاں رہیں گے اللهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذلیل اور محکوم بن کر رہیں گے اور ان کیلئے یہ مقرر کیا گیا ہے کہ بحر کسی قوم ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ کے ماتحت رہنے کے کسی ملک میں خود بخودعزت کے ساتھ نہیں رہیں گے بِايَتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْأَنْبِيَاء ہمیشہ کمزوری اور ناتوانی اور بدبختی انکے شامل رہے گی وجہ یہ کہ وہ خدا بِغَيْرِ حَقٍ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا و کے نشانوں سے انکار کرتے رہے ہیں اور خدا کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے كَانُوا يَعْتَدُونَ ۔ رہے ہیں یہ اسلئے کہ وہ معصیت اور نافرمانی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے بقيه حاشیه در حاشیه میه نمبر حکمت اور مصلحت سے کسی خاص دعا کو منظور کرنا نہیں چاہتا۔ یا کسی عرصہ تک توقف ڈالنا چاہتا ہے یا کوئی اور خبر پہنچانا چاہتا ہے کہ جو بمقتضائے بشریت انسان کی طبیعت پر گراں گزرتی ہو۔ مثلاً جب انسان جلدی سے کسی امر کا حاصل کر لینا چاہتا ہو اور وہ حاصل ہونا حسب مصلحت ربانی اس کے لئے مقدر نہ ہو یا توقف سے مقدر ہو۔ اس قسم کے الہام بھی یعنے جو سخت اور گراں صورت کے الفاظ خدا کی ۲۲۵ طرف سے زبان پر جاری ہوتے ہیں بعض اوقات مجھ کو ہوتے رہے ہیں جس کا بیان کرنا موجب طوالت ہے مگر ایک مختصر فقرہ بطور نمونہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شاید تین سال کے قریب عرصہ گزرا ہوگا کہ میں نے اسی کتاب کے لئے دعا کی کہ لوگ اس کی مدد کی طرف متوجہ ہوں تب یہی الہام شدید الکلمات جس کی میں نے ابھی تعریف کی ہے ان لفظوں میں ہوا ( بالفعل نہیں ) اور یہ الہام جب اس ال عمران : ۱۳ ۲ الانعام: ۱۳۵ المائدة: ۶۵ ال عمران : ۱۱۳