براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 250
روحانی خزائن جلد ۱ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ۔ يُرِيدُونَ ۲۴۸ براہین احمدیہ حصہ سوم یہی واجب معلوم ہوتا ہے کہ کلام خدا بے مثل چاہئے ۔ لیکن ایسا کلام کہاں ہے جس کا بے مثل ہونا کسی صریح دلیل سے ثابت ہو۔ اگر قرآن بے نظیر ہے تو اس کی بے نظیری طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتب امِنُوا بعض یہود اور عیسائیوں نے کہا کہ یوں کرو کہ دن کے اول وقت بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا میں تو ایمان لاؤ اور دن کے آخری وقت یعنے شام کو حقیت اسلام وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ سے منکر ہو جاؤ۔ تا شاید اسی طور سے لوگ اسلام کی طرف رجوع يَرْجِعُوْنَ فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا کرنے سے ہٹ جائیں۔ سو ہم ان کو ایک سخت عذاب عَذَابًا شَدِيدًا وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَا چکھائیں گے اور جیسے ان کے برے اور بد تر عمل ہیں ویسا ہی ان أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ کو بدلہ ملے گا ۔ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں وَ يَأْبَى الله إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُوْرَة | سے بجھائیں پر خدا اپنے کام سے ہرگز نہیں رکے گا۔ جب تک وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ هُوَ الَّذِى اس نور کو کامل طور پر پورا نہ کرے اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ کریں۔ وہ خدا وہ قادر ذوالجلال ہے جس نے اپنے رسول کو الحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّم ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لئے بھیجا ہے تا دنیا کے تمام وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ۔ دینوں پر اس کو غالب کرے اگر چہ مشرک لوگ کراہت ہی کریں۔ صورت اول الہام کی منجملہ ان کئی صورتوں کے جن پر خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کوئی امرغیبی اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی نرمی سے اور کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں جاری کر دیتا ہے۔ اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں وہ ایسی پر شدت اور عنیف صورت میں زبان پر وارد ہوتے ہیں جیسے گڑھے یعنے اولے بیکبارگی ایک سخت زمین پر گرتے ہیں یا جیسے تیز اور پر زور رفتار میں گھوڑے کا ئم زمین پر پڑتا ہے۔ اس الہام میں ایک عجیب سرعت اور شدت اور ہیبت ہوتی ہے جس سے تمام بدن متاثر ہو جاتا ہے اور زبان ایسی تیزی اور بارعب آواز میں خود بخود دوڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اس کے جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ر بودگی ہوتی ہے وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد فی الفور دور ہو جاتی ہے۔ اور جب تک کلمات الہام تمام نہ ہوں۔ تب تک انسان ایک میت کی طرح بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔ یہ الہام اکثر ان صورتوں میں نازل ہوتا ہے کہ جب خداوند کریم ورحیم اپنی عین بقیه حاشیه ال عمران ۷۳ ۲ حم السجدة: ٢٨ ٣ التوبة: ٣٣،٣٢ ۲۲۴ ۲۲۴