براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 248

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۴۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۲۲ ۲۲ تو اس صورت میں نہایت درجہ کا نادان وہ شخص ہے کہ جو افراد نا قصہ انسانی میں تو اس صداقت کو مانتا ہے مگر اس ذات کامل کے کلام مقدس میں جس کا اپنے علوم تامہ وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ اور اگر خدا ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو زمین اور آسمان اور جو السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ بَلْ کچھ ان میں ہے سب بگڑ جاتا۔ بلکہ ہم ان کے لئے وہ ہدایت آتَيْنَهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِ ہم لائے ہیں جس کے وہ محتاج ہیں ۔ سو جس ہدایت کے وہ محتاج ہیں معْرِضُونَ اِ هَلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ اس سے کنارہ کش ہیں۔ کیا میں تم کو یہ خبر دوں کہ جنات کن لوگوں تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ پر اترا کرتے ہیں۔ جنات انہیں پر اترا کرتے ہیں کہ جو دروغگو اور آفَّادٍ أَثِهِ يُلْقُونَ السَّمْعَ معصیت کار ہیں اور اکثر ان کی پیشینگوئیاں جھوٹی ہوتی ہیں اور وأكثَرُهُمْ كَذِبُونَ وَالشُّعَرَاءُ شاعروں کی پیروی تو وہی لوگ کرتے ہیں کہ جو گمراہ ہیں۔ کیا بعهم الغاون المُتَرَ أَنَّهُمْ فِي تمہیں معلوم نہیں کہ شاعر لوگ قافیہ اور ردیف کے پیچھے ہر یک كُل وَادٍ يَهِيمُونَ وَالَهُمْ يَقُولُونَ جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی کسی حقانی صداقت کے پابند نہیں مَا لَا يَفْعَلُوْنَ ۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ رہتے اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور ظالموں کو عنقریب ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۔ سے معلوم ہوگا کہ ان کا مرجع اور ماب کون سی جگہ ہے ۔ اور قرآن کو ہم وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَه وَبِالْحَق نَزَل ، ۲ نے ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور حقانیت کے ساتھ اترا ہے۔ سب معانی ناجائز اور غیر صحیح ٹھہریں گے نعوذ بالله من زلة الفكر وقلة النظر غرض یہ کسی پر پوشیدہ نہیں کہ ہر ایک علم میں خواہ علم ادیان ہو اور خواہ علم ابدان اور خواہ کوئی دوسرا علم ہو ۔ ایسے الفاظ عرفیہ ضرور مستعمل ہوا کرتے ہیں جن سے مقاصد اصطلاحی اس علم کے واضح اور روشن ہو جائیں اور علماء کو اس بات سے چارہ اور گریز گاہ نہیں کہ اس علم کے افادہ استفادہ کی غرض سے بعض الفاظ کے معانی اپنے عرف میں اپنے مطلب کے موافق مقرر کر لیں کمالا يـخـفـی علی الناظر لیکن اگر مقررکر مولوی صاحب عرف علماء کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو انہیں اختیار ہے کہ جو اولیاء اللہ کو خدا کی طرف سے کوئی غیبی خبر دی جاتی ہے۔ اس کا نام وحی اطلاع اور وحی اعلام رکھیں ۔ مگر مناسب ہے کہ اس قدر ضرور ظاہر کر دیں کہ ہم میں اور دوسری تمام جماعت مسلمانوں میں نزاع لفظی ہے یعنے جن علامات الہیہ کا نام ہم وحی رکھتے ہیں انہیں کو علماء اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ لیکن اصل ۲۲۲ بقیه حاشیه در حاشیا المؤمنون - الشعراء: ۲۲۲ تا ۲۲۷ ۳ الشعراء: ۴۲۲۸ بنی اسرا