براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 235
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۳۳ براہین احمدیہ حصہ سوم والعلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانی میں یکساں ہو جائیں اور ۲۱ ) کچھ ما بہ الامتیاز باقی نہ رہے ۔ تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت عدم شے پر دلیل ٹھہراتا ہے اور ہزار ہا صاحب تجر بہ لوگوں کی شہادت کو قبول نہیں کرتا۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ قوانین قدرتیہ کے لئے یہ بھی شرط ہو کہ ہر یک فرد بشر عام طور پر خودان کو آزما لیوے۔ خدا ن نے نوع انسان کو ظاہری و باطنی قوتوں میں متفاوت پیدا کیا ہے۔ مثلاً بعض کی قوت باصرہ نہایت تیز ہے بعض ضعیف البصر ہیں۔ بعض بعض اندھے بھی ہیں۔ جو ضعیف البصر ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ تیز بصارت والوں نے دور سے کسی بار یک چیز کو مثلاً ہلال کو دیکھ لیا تو وہ انکار نہیں کرتے بلکہ انکار کرنا اپنی ذلت اور پردہ دری کا موجب سمجھتے ہیں اور اندھے بیچارے تو ایسے معاملہ میں دم بھی نہیں مارتے ۔ اسی طرح جن کی قوت شامہ مفقود ہے وہ صد با ثقہ اور راست گولوگوں کی زبان سے خوشبو بد بو کی خبریں جب سنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں اور ذرہ شک نہیں کرتے اور خوب جانتے ہیں ۲۱ کہ اس قدر لوگ جھوٹ نہیں بولتے ضرور بچے ہیں اور بلا شبہ ہماری ہی قوت شامہ ندارد ہے کہ جو ہم ان مشمومات کے دریافت کرنے سے محروم ہیں۔ علی ھذا القیاس باطنی استعدادوں میں بھی بنی آدم مختلف ہیں بعض ادنی ہیں اور مُجب نفسانی میں محجوب ہیں اور بعض قدیم سے ایسے نفوس عالیہ اور صافیہ ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خدا سے الہام پاتے رہے ہیں اور ادنی فطرت کے لوگ کہ جو محجوب النفس ہیں ان کا نفوس عالیہ لطیفہ کے خصائص ذاتیہ سے انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی اندھا یا ضعیف البصر صاحب بصارت قویہ کے مرتیات سے انکار کرے یا جیسا ایک انتم آدمی جس کی قوت بویائی ابتدا پیدائش سے ہی باطل ہو ۔ صاحب قوت شامہ کے مشمومات سے منکر ہو۔ اور پھر منکر کے ملزم کرنے کے لئے بھی جو ظاہری طور پر تدابیر ہیں وہی باطنی طور پر بھی تدا پیر موجود ہیں مثلاً جس کی قوت شامہ کا مفقود ہونا بعلت مولودی ہے اگر وہ خوشبو بد بو کے وجود سے منکر ہو بیٹھے اور جس قدر لوگ صاحب قوت شامہ میں سب کو در ونگو یا وهمی قرار دے تو اس کو یوں سمجھا سکتے ہیں کہ اس کو یہ کہا جائے کہ وہ بہت سی چیزوں مثلاً پار چات میں سے بعض پر عطر مل کر اور بعض کو خالی رکھ کر صاحب قوت شامہ