براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 227
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۵ براہین احمدیہ حصہ سوم اور فن سخن کی نزاکتوں سے بھی نا آشنا محض ہے ممکن نہیں کہ مثل اسکے بیان کر سکے ۔ یہ بات ۲۰۵ بہت ہی ظاہر اور عام فہم ہے کہ جاہل اور عاقل کی تقریر میں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے نہ چھوڑیں تو سزا کے لائق ہوں۔ خدائے تعالیٰ ایک کو مجرم ٹھہرا کر پکڑ لے اور سزا دینے کو طیار (۲۰۵) ہو جائے مگر بیان واضح سے اس کے دلائل بریت کا غلط ہونا ثابت نہ کرے اور اس کے دلی شبہات کو اپنی کھلی کلام سے نہ مٹادے۔ کیا یہ اُس کا منصفانہ حکم ہوگا ؟ پھر اسی کی طرف دوسری آیت میں بھی اشاره فرمایا: هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ الجز و نمبر ۲ یعنے قرآن میں تین صفتیں ہیں۔ اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ جمال چلا آتا تھا۔ ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے اور پھر اسی جامعیت کے بارے میں فرمایا۔ وَكُلَّ شَيْءٍ فَضَلْنَهُ تَفصيلا - الجزو نمبر ۱۵ پنے اس کتاب میں ہر یک علم دین کو بہ تفصیل تمام کھول دیا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کی جزئی ترقی نہیں بلکہ یہ وہ وسائل بتلاتا ہے اور ایسے علوم کا ملہ تعلیم فرماتا ہے جن سے کلی طور پر ترقی ہو اور پھر فرمایا: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ - الجزء نمبر ۴ یعنی یہ کتاب ہم نے اس لئے تجھ پر نازل کی کہتا ہر یک دینی صداقت کو کھول کر بیان کر دے اور تا یہ بیان کامل ہمارا ان کے لئے جو اطاعت الہی اختیار کرتے ہیں موجب ہدایت و رحمت ہو۔ اور پھر فرمایا۔ الرُكِتُبُ أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى التَّوْرِ الجز ونمبر ۱۳ ۔ یعنی یہ عالی شان کتاب ہم نے تجھ پر نازل کی تا کہ تو لوگوں کو ہر ایک قسم کی تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر انسان کے نفس میں طرح طرح کے وساوس گزرتے ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ان سب کو قرآن شریف دور کرتا ہے اور ہر یک طور کے خیالات فاسدہ کو مٹاتا ہے اور معرفت کامل کا نور بخشتا ہے یعنے جو کچھ خدا کی طرف رجوع ہونے اور اس پر یقین لانے کے لئے معارف و حقائق درکار ہیں سب عطا فرماتا ہے اور پھر فرمایا۔ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرى وَلَكِنْ تَصْدِيقَ البقره: ۲۱۸۶ بنی اسرائیل : ۱۳ ۳ النحل: ٩٠ ٢ ابراهيم :٢