براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 226

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۴ براہین احمدیہ حصہ سوم تقریر میں بکمال صحت و حقانیت اور بہ نہایت متانت و بلاغت بیان کرسکتا ۔ ہے ۔ اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ مس نہیں اس کو بیان کیا ہے۔ بطور کھا یا قصہ نہیں ۔ دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔ اور پھر فرمایا۔ اِنَّهُ لَقَولُ فَضلُ وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ ۔ بے علم معاد میں جس قدر تنازعات اٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے۔ بے سود اور بیکار نہیں ہے ۔ اور پھر فرمایا ۔ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - الجزء نمبر ۱۴ - جینے ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دور کیا جائے۔ اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلایا جاوے۔ اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اُس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے بعنے اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بیہودہ اور غلاط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا رہزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے۔ صرف اشارات قانونِ قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں۔ جیسے اگر حج نہ مدعی کی وجوہات به تصریح قلمبند کرے ۔ نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ تو ڑے تو پھر کیونکرممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات و وجوہات کا جواب پالیں اور کیونکر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم اخیر مترتب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے طرح طرح کی بد عقیدگی میں پڑ گئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر سے غلطی پر مطلع کرے اور مدلل اور واضح بیان سے ان کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پا کر پھر بھی وہ باز نہ آویں اور غلطی کو ل الطارق: ۱۴، ۱۵ ۲ النحل : ۶۵