براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 225

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۳ براہین احمدیہ حصہ سوم میں بھی یکتا ہے اور نظم اور نثر میں سرآمد روزگار ہے ۔ جیسے وہ ایک مرض کے حدوث کی کیفیت اور اُس کی علامات اور اسباب فصیح اور وسیع ایک شخص پر یہ بات کھل جاتی ہے کہ خدا کا کلام برحق ہے اور اس کا ہر یک وعد ہ ضرور ایک دن ہونے والا ہے۔ تو اسی وقت دنیا کی محبت اس پر سرد ہو جاتی ہے ۔ ایک دم میں وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ دنیا پر ۔ ہو جاتا ہے اور کسی اور ہی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ کیا ایمان کے رو سے اور کیا عمل کے رو سے اور کیا جزا سزا کی امید کے رو سے کھلا ہوا اور مفتوح دروازہ خدا کے بچے الہام اور ،نمبراا پاک کلام کا دروازہ ہے ویس۔ کلام پاک آن پیچون دہد صد جام عرفان را کسے کو بیخبر زان می چه داند ذوق ایمان را نه چشم است آنکه در کوری همه عمرے بسر کرد است نه گوش است آنکه نه شنیدست گا ہے قول جانان را وسوسہ ہفتم :۔ کسی کتاب پر علم الہی کی ساری صداقتیں ختم نہیں ہوسکتیں پھر کیونکر امید کی جائے کہ ناقص کتا بیں کامل معرفت تک پہنچا دیں گی ۔ جواب۔ یہ وسوسہ اس وقت تک قابل التفات ہوتا کہ جب برہم سماج والوں میں سے کوئی صاحب اپنی عقل کے زور سے خداشناسی یا کسی دوسرے امر معاد کے متعلق کوئی ایسی جدید صداقت نکالتا جس کا قرآن شریف میں کہیں ذکر نہ ہوتا اور ایسی حالت میں بلاشبہ حضرات برہمو بڑے ناز سے کہہ سکتے تھے کہ علم معاد اور خداشناسی کی ساری صداقتیں کتاب الہامی میں مندرج نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں صداقت باہر رہ گئی ہے جس کو ہم نے دریافت کیا ہے۔ اگر ایسا کر کے دکھلاتے تب تو شاید کسی نادان کو کوئی دھوکا بھی دے سکتے۔ پر جس حالت میں قرآن شریف کھلا کھلا دعوتی کر رہا ہے مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ ٢٠٣٠) شئ الجزو نمبرے یعنی کوئی صداقت علم الہی کے متعلق جو انسان کیلئے ضروری ہے اس کتاب سے باہر نہیں اور پھر فرمایا: يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةٌ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ - الجزء نمبر ٣٠ اپنے خدا کا رسول پاک صحیفے پڑھتا ہے جن میں تمام کامل صداقتیں اور علوم اولین و آخرین درج ہیں اور پھر فرمايا: كتب أحْكِمَتْ أَيْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ - الجزء نمبر بنے اس کتاب میں دو خو بیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدلل طور پر اپنے علوم حکمیہ کی طرح ل الانعام: ٣٩ البينة: ۴۳ - هود ۲