براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 223
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۲۱ براہین احمدیہ حصہ سوم میں من حیث الکمالات اُس سے برابر ہو جائے مثلاً ایک طبیب حاذق جو علم ابدان میں کیوں یہ فرض ہے کہ بنی آدم کو ان کی پر ہیز گاری کا ضرور بدلہ دے اور فاسقوں سے ان کے فسق و فجور کا مواخذہ کرے۔ جس حالت میں خدا پر خود یہی فرض نہیں کہ انسان کی روح کو بر خلاف تمام حیوانوں کی روحوں کے ہمیشہ کے لئے موجود رکھے اور دوسرے سب جانداران کی روح معدوم کر دے تو پھر خاص انسان کو جزا سزا دینا اور دوسروں کو اس سے بے نصیب رکھنا کیونکر اس پر فرض ہو جائے گا۔ کیا تمہاری نیکیوں سے خدا کو کچھ فائدہ پہنچتا ہے اور تمہاری ہدیوں سے اس کو کچھ تکلیف ملتی ہے تا وہ نیکیوں سے آرام پاکر ان کو نیکی کا بدلہ دے اور (۲۰۲ کے بدوں سے ایذا اٹھا کر ان سے کینہ کشی کرے اور اگر تمہاری نیکی بدی سے اس کا نہ کچھ ذاتی فائدہ ہے نہ نقصان تو پھر تمہاری اطاعت یا عدم اطاعت اس کے لئے برابر ہے اور جب برابر ہوئی تو پھر اس صورت میں اعمال پر خواہ نخواہ پاداش کا مترتب ہونا کیونکر یقینی طور پر ثابت ہو۔ کیا یہ قرین انصاف ہے کہ کوئی شخص محض اپنی مرضی سے بغیر حکم دوسرے کے کوئی کام کرے اور دوسرے پر خواہ نخواہ اس کا حق ٹھہر جائے ہر گز نہیں مثلاً اگر زید بدوں حکم بکر کے کوئی گڑھا کھودے یا کوئی عمارت بنا دے تو گو یہ بھی تسلیم کر لیں کہ اس گڑھے یا عمارت میں بکر کا سراسر فائدہ ہے پر تب بھی از روئے قانون انصاف کے ہرگز بکر پر واجب نہیں ہوتا کہ زید کی محنت اور سعی کا عوض ادا کرے۔ کیونکہ زید کی وہ محنت صرف اپنے ہی خیال سے ہے نہ بکر کی فہمائش اور حکم سے ۔ پھر جس حالت میں ہماری نیکیوں سے خدا کو کچھ فائدہ بھی نہیں پہنچتا بلکہ تمام عالم کے پر ہیز گار اور نیکو کار ہو جانے سے بھی خدا کی بادشاہت ایک ذرہ زیادہ نہیں ہوتی اور نہ ان سب کے فاسق اور بدکار ہو جانے سے اس کی بادشاہی میں ایک ذرہ خلل آتا ہے تو پھر اس صورت میں جب تک خدا کی طرف سے کوئی صریح وعدہ نہ ہو کیونکر یقینی طور پر سمجھا جائے کہ وہ ہماری نیکیوں یا ہماری بدیوں کا ضرور ہمیں پاداش دے گا ہاں اگر خدا کی طرف سے کوئی وعدہ ہوتو اس صورت میں ہر یک عقل سلیم یہ یقین تمام بجھتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرے گا اور ہر شخص بشر طیکہ نرا احمق نہ ہو بخوبی جانتا ہے کہ وعدہ اور عدم وعدہ ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نیکوں ہونا چاہیے۔ (ناشر)