براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 214
۱۹۵ روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۲ براہین احمدیہ حصہ سوم 1 ،نمبراا ہزار ہا دقائق حکمت سے پُر دیکھ کر اور انسانی طاقتوں کے مقابلہ سے برتر اور بلند اُس کی تقریروں کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ فورا ہر یک قسم کے آدمی کی اسی طور پر تسلی کر سکتا ہے کہ جس طور پر اس آدمی کی طبیعت واقعہ ہے یا جس درجے پر اس کی استعداد پڑی ہوئی ہے۔ اس لئے کلام اس کی خدا کی طرف خیالات کو کھینچنے میں اور دنیا کی محبت چھوڑانے میں اور احوال الآخرت نقش دل کرنے میں بڑی وسیع قدرت رکھتی ہے اور ان تنگ اور تاریک تصویروں میں محدود نہیں ہوتی جن میں مجرد عقل پرستوں کی باتیں محدود ہوتی ہیں۔ اسی جہت سے اس کا اثر عام اور اس کا فائدہ تام ہوتا ہے اور ہر یک ظرف اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے پُر ہو جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالی نے اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرمایا ہے ۔ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَال الجزو نمبر ۱۳۔ خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام ) اتارا۔ سواس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق یہ نکلا یعنے ہر ایک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔ طبائع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں ۔ اور جوان سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجے پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر ولی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جا پہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے ۔ اور نیز قوت اثر پر نظر کرنے سے بھی طریق متابعت الہام کا نہایت کھلا ہوا اور وسیع معلوم ہوتا ہے کیونکہ جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ تقریر میں اسی قدر برکت اور جوش اور قوت اور عظمت اور دلکشی پیدا ہوتی ہے کہ جس قدر متکلم کا قدم مدارج یقین اور اخلاص اور وفاداری کے اعلیٰ درجے پر پہنچا ہوا ہوتا ہے ۔ سو یہ کمالیت بھی اسی شخص کی تقریر میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جس کو دوہرے طور پر معرفت الہی حاصل ہو ۔ اور یہ خود ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ پر جوش تقریر کہ جس پر ترتیب اثر موقوف ہے تب ہی انسان کے منہ سے نکلتی ہے کہ جب دل اس کا یقین کے جوش سے پر ہو۔ اور وہی باتیں دلوں پر بیٹھتی ہیں جو کامل الیقین ل الرعد: ١٨ نقل مطابق اصل مگر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' بہ نکلی ہونا چاہیے۔(ناشر)