براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 213

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۱ براہین احمدیہ حصہ سوم بے مثل و مانند ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ہر یک عاقل خدا کے قانون قدرت پر نظر (۱۳) ڈال کر اور ہر یک چیز کو جو اس کی طرف سے ہے خواہ وہ کیسی ہی ادنیٰ سے ادنیٰ ہو اُس کو ہے کہ اس کا منہ کبھی نہیں کھلا اور کبھی اس کو بولنے کی طاقت نہیں ہوئی تو تم کو تو یہ کہنا چاہئے (۱۹۴) کہ وہ ادھورا اور ناقص ہے جس کی اور صفتیں تو معلوم ہوگئیں پر صفت گویائی کا کبھی پتہ نہ پتہ نہ ملا۔ اس کی نسبت تم کس منہ سے کہہ سکتے ہو کہ اس نے کوئی کھلا ہوا صحیفہ جس میں اس نے بخوبی اپنا مافی الضمیر ظاہر کر دیا ہو تم کو عطا کیا ہے ۔ بلکہ تمہاری رائے کا تو خلاصہ ہی یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ سے رہنمائی میں کچھ نہیں ہو سکا ۔ تمہیں نے اپنی قابلیت اور لیاقت سے شناخت کر لیا۔ ماسوا اس کے الہامی تعلیم ان معنوں کر کے کھلی ہوئی ہے کہ اس کا اثر عام طور پر تمام لوگوں کے دلوں پر پڑتا ہے اور ہر یک طور کی طبیعت اس سے مستفیض ہوتی ہے ۔ اور مختلف اقسام کی فطرتیں اُس سے نفع اٹھاتی ہیں اور ہر رنگ کے طالب کو اس سے مدد پہنچتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بذریعہ کلام الہی بہت لوگ ہدایت یاب ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں اور بذریعہ مجرد عقلی دلائل کے بہت ہی کم بلکہ کالعدم ۔ اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص بہ حیثیت مخبر صادق لوگوں کی نظر میں ثابت ہو کر واقعات معاد میں اپنا تجربہ اور امتحان اور ملاحظہ اور معائنہ بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی دلائل عقلیہ بھی سمجھاتا ہے وہ حقیقت میں ایک دو ہرا زور اپنے پاس رکھتا ہے ۔ کیونکہ ایک تو اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ واقعہ نفس الامر کا معائنہ کرنے والا اور سچائی کو بچشم خود دیکھنے والا ہے۔ اور دوسرے وہ بطور معقول بھی سچائی کی روشنی کو دلائل واضحہ سے ظاہر کرتا ہے ۔ پس ان دونوں ثبوتوں کے اشتمال سے ایک زبر دست کشش اس کے وعظ اور نصیحت میں ہو جاتی ہے کہ جو بڑے بڑے سنگین دلوں کو کھینچ لاتی ہے اور ہر نوع کے نفس پر کار گر بھی پڑتی ہے ۔ کیونکہ اس کی بات میں مختلف طور کی تفہیم کی قدرت ہوتی ہے جس کے سمجھنے کے لئے ایک خاص لیاقت کے لوگ شرط نہیں ہیں ۔ بلکہ ہر یک ادنیٰ و اعلیٰ وزیرک و غیبی بجز ایسے شخص کے کہ جو بکلی مسلوب العقل ہو ہو