براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 208

روحانی خزائن جلد 1 ۲۰۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۹۰ جن کو انگریزی کی سوفسطائی اور مغشوش تعلیموں نے مغرور اور کور باطن کر کے فرقان مجید کے بے مثل و مانند ہونے سے جو کہ اس کے منجانب اللہ ہونے کے لئے خاصہ لازمی ہے انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور ہوا یا عمد کی نوع کا ظلم یاکسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اس کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا و ظلم و تعدی سے بگلی پاک ہو اور نیز اپنی ذات میں ۱۹۰ واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔ کیونکہ گوگوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہر یک طور کے ظلم و خبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو چل ہی نہیں سکتا اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر یک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔ دوم ۔ حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تا نیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو کیونکہ ہر یک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا ہے ۔ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا الجزو نمبر ۱۵ نمبر ۱۵ یعنے ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے تا جو لوگ صالح آدمی ہیں۔ بمقابلہ برے آدمیوں کے ان کی صلاحیت آشکارا ہو جائے اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے ۔ کیونکہ ضد کی حقیقت ضد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدرومنزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ سوم ۔ حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع واقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ جیسا فرمایا۔ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا نمبر ۲۹ ۔ یعنے تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے حالانکہ اس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا ۔ یعنے اختلاف استعدادات و طبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اُس کی الكهف: ۸ ۲ نوح : ۱۵،۱۴