براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 199

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۹۷ براہین احمدیہ حصہ سوم گویا یہ خدا پر ہی اعتراض ٹھہرا جس نے ادنی کو اعلی سے زیادہ تر شرف دے دیا اور (۱۸۲) ادنی کو اپنی ذات پر وہ دلالتیں بخشیں کہ جو اعلیٰ کو نہیں ۔ تو ایسا شخص بھی بقول حضرات عیسائیاں با وصف ایسی حالت خراب کے خدا کا نبی اور مقرب ہو سکتا ہے۔ بلکہ ایک مسیح کو باہر نکال کر دوسرے تمام انبیاء جن کی نبوت کو بھی وہ مانتے ہیں اور ان کی الہامی کتابوں کو بھی مقدس مقدس کر کے پکارتے ہیں وہ نعوذ باللہ بقول ان کے ایسے ہی تھے اور کمالات قدسیہ سے جو مستلزم عصمت و پاک دلی ہیں محروم تھے ۔ عیسائیوں کی عقل اور خداشناسی پر بھی ہزار آفرین۔ کیا اچھا نور وحی کے نازل ہونے کا فلسفہ بیان کیا مگر ایسے فلسفہ کے تابع ہونے والے اور اس کو پسند کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سخت ظلمت اور کور باطنی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی ۱۸۲) صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ مگر ان کا کیا علاج جن کو عقل سے کچھ بھی سروکار نہیں اور جو کہ روشنی سے بغض اور اندھیرے سے پیار کرتے ہیں اور چمگادڑ کی طرح رات میں ان کی آنکھیں خوب کھلتی ہیں لیکن روز روشن میں وہ اندھے ہو جاتے ہیں خدا اپنے نور کی طرف (یعنے قرآن شریف کی طرف ) جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر یک چیز کو بخوبی جانتا ہے (یعنے ہدایت ایک امر منجانب اللہ ہے۔ اسی کو ہوتی ہے جس کو عنایت ازلی سے توفیق حاصل ہو ۔ دوسرے کو نہیں ہوتی ۔ اور خدا مسائل دقیقہ کو مثالوں کے پیرا یہ میں بیان فرماتا ہے تا حقائق عمیقہ قریب بہ افہام ہو جائیں ۔ مگر وہ اپنے علم قدیم سے خوب جانتا ہے کہ کون ان مثالوں کو سمجھے گا اور حق کو اختیار کرے گا اور کون محروم و مخذول رہے گا ) پس اس مثال میں جس کا یہاں تک جلی قلم سے ترجمہ کیا گیا۔ خدا تعالی نے پیغمبر علیہ السلام کے دل کو شیشہ مصفی سے تشبیہ دی جس میں کسی نوع کی کدورت نہیں ۔ یہ نور قلب ہے۔ پھر آنحضرت کے فہم و ادراک و عقل سلیم اور جمیع اخلاق فاضلہ جبلی و فطرتی کو ایک لطیف تیل سے تشبیہ دی جس میں بہت سی چمک ہے اور جو ذریعہ روشنی چراغ ہے یہ نور عقل ہے کیونکہ منبع و منشاء جميع لطائف