براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 197

روحانی خزائن جلد 1 ۱۹۵ براہین احمدیہ حصہ سوم بقیه حاشیه نمبـ یعنے تمہارے نزدیک انسان شہد بنانے پر تو قادر نہیں پر خدا کی کلام کے بنانے پر ۱۸۰ قادر ہے ۔ تمہاری نگاہ میں کیڑے مکوڑے کیسے بچ گئے اور ایسے من کو بھا گئے کہ خدا کی کلام ان کی مانند بھی نہیں ۔ جاہلو ! اگر خدا کی کلام بے مثل نہیں تو کیڑوں فرمایا ہے ۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ لا الجزو نمبر ۳۰ ۔ اس لئے خلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔ اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے۔ تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پا۔ پائے جاتے ہیں جیسے عقل ذکا - سرعت فہم ۔ صفائی ذہن ۔ حسن تحفظ - حسن تذکر ۔ عفت - حیا۔ صبر - قناعت ۔ زہد - تورع - جوانمردی - استقلال - عدل ۔ امانت ۔ صدق لہجہ - سخاوت فی محلہ ۔ ایثار فی محله - کرم فی محله - مروت فی محله - شجاعت فی محله - علو همت في محلہ حکم فی محله متحمل فی محله - حمیت فی محله - تواضع فی محله - ادب فی محله - شفقت فی محله - رافت في محله - رحمت فی محلہ ۔ خوف الہی ۔ محبت الہیہ ۔ انس بالله انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ) اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (یعنے عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نو را نیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خود بخود روشن ہونے پر مستعد تھے ) نور علی نور ۔ نور فائض ہو انور پر (یعنے جب کہ وجو د مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے سو ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا ۔ پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔ تاریکی پر وارد نہیں ہوتا ۔ کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے ۔ اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں ۔ بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا ۔ ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے ۔ اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا ۔ جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس ا التين : ۵