براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 195

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۹۳ براہین احمدیہ حصہ سوم یا دھندلا جاتی ہیں۔ اس لئے تم مگس طیفیتی سے مگس ہی کی عظمت کے قائل ہو خدا کے نور کی عظمت کے قائل نہیں ۔ جن لفظوں کو کہتے ہو کہ معانی کی طرح وہ بھی خدا ہی کے مونہہ ۱۷۹ ہوئے نکلتے ہیں جن کو کو کب دری کہتے ہیں ( یعنے حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کو کب دری کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے ) وہ چراغ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے ( یعنی زیتون کے روغن سے ) روشن کیا گیا ہے (شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجو د مبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ نهایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان مجموعہ سے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا) اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنے طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط ۔ بلکہ نہایت توسط واعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغ وحی روشن کیا گیا ہے۔ سو روغن سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی معه جميع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔ اور وحی کا چراغ لطائف محمد یہ سے روشن ہونا ان معنوں کر کے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا۔ اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود (۱۷۹) تھی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ تو ریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی ۔ سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی ۔ سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و هیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالی