براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 194
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۹۲ براہین احمدیہ حصہ سوم جس کو تم مچھر اور مکھی میں اور درختوں کے ہر یک پتے میں خوب سمجھتے اور تسلیم کرتے ہو۔ ۱۷۸ مگر اس ربانی نور کے دیکھنے کے وقت تمہاری آنکھیں الو کی طرح اندھی ہو جاتی ہیں خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔ یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔ یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائض ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرما نہیں۔ لیکن ہمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہیں افراد خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے۔ یعنی نفوس کا ملہ انبیاء میہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلی ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا ۔ اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔ اس لئے خداوند تعالی نے اول فیضان عام کو (جو بدیہی الظہور ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضان خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحُ ۔ الخ ۔ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقہ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقت باقی نہ رہے۔ کیونکہ معانی معقولہ کو صور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر یک نبی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ یہ ہے۔ اس نور کی مثال ( فرد کامل میں جو پیغمبر ہے ) یہ ہے جیسے ایک طاق (یعنے سینہ مشروح حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) اور طاق میں ایک چراغ ( یعنے وحی اللہ ) اور چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفی ہے (یعنے نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشہ سفید اور صافی کی طرح ہر یک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہر ہے۔ اور تعلقات ماسوی اللہ سے بکلی پاک ہے ) اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا ان ستاروں میں سے ایک عظیم النورستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چپکتے