براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 193

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۹۱ براہین احمدیہ حصہ سوم بلکہ بطور بحث اور مجادلہ کے یہ حجت پیش کرتے ہو کہ گواب تک کوئی انسان اس کے بنانے پر ۱۷۷ قادر نہیں ہوا مگر اس کا کیا ثبوت ہے کہ آئندہ بھی قادر نہ ہو۔ نادانو ! اس کا وہی ثبوت ہے کہ اس قسم کے باطل پرستوں کے اقوال سے حقیقی سچائی کا کچھ بھی نقصان نہیں اور ان کے بیہودہ بکنے سے جو صداقت اپنی ذات میں بین الثبوت ہے وہ بدل نہیں سکتی ۔ بلکہ وہی لوگ جھوٹ بول کر اور سچائی کا راستہ چھوڑ کر آپ رسوا ہوتے ہیں اور دانشمندوں کی نظر سے گر جاتے ہیں۔ وحی اللہ کے پانے کے لئے تقدس کامل شرط ہونا کچھ ایسا امر نہیں ہے جس کے ثبوت کے دلائل کمزور ہوں یا جس کا سمجھنا سلیم العقل آدمی پر کچھ مشکل ہو ۔ بلکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کی شہادت تمام زمین ۱۷۷ آسمان میں پائی جاتی ہے جس کی تصدیق عالم کا ذرہ ذرہ کرتا ہے جس پر نظام تمام دنیا قائم ہے۔ قرآن شریف میں اس مسئلہ کو ایک عمدہ مثال میں بیان کیا ہے جو ذیل میں معہ ایک لطیف تحقیقات جو اس کی تفسیر سے متعلق اور بحث ھذا کی تکمیل کے لئے ضروری ہے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے ۔ الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيَّ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُوْرٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم - الجزء نمبر ١٨ خدا آسمان و زمین کا نور ہے ۔ یعنے ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے ۔ خواہ وہ ارواح میں ہے۔ خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی ۔ اس کے فیض کا عطیہ ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں ۔ وہی تمام فیوض کا مہدہ ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے۔ اس کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر وزبر کی پناہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا ۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو ۔ یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ النور : ٣٦