براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 192
روحانی خزائن جلد ۱ ١٩٠ براہین احمدیہ حصہ سوم پروں اور پاؤں سے بھی درجہ میں کمتر اور خوبی میں فروتر ہے ۔ کیا افسوس کا مقام ہے کہ ۱۷۶) ایک مچھر کی ترکیب جسمی کی نسبت تم صاف اقرار کرتے ہو کہ ایسی ترکیب انسان سے نہیں بن سکتی اور نہ آئندہ بنے گی لیکن کلام الہی کی نسبت کہتے ہو کہ وہ بن سکتی ہے۔ قدوس اعظم کا ہمکلام بننے کے لئے ایک ایسی خاص قابلیت اور نورانیت شرط ہے کہ جو اس مرتبہ عظیم کی قدر اور شان کے لائق ہے۔ یہ بات ہر گز نہیں کہ ہر یک شخص جو عین نقصان اور فرو مائیگی اور آلودگی کی حالت میں ہے اور صد با حجب ظلمانیہ میں مجوب ہے وہ با وصف اپنی پست فطرتی اور دون ہمتی کے اس مرتبہ کو پاسکتا ہے۔ اس بات سے کوئی دھوکا نہ کھاوے کہ منجملہ اہل کتاب عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کے لئے جو وحی اللہ کے منزل علیہ ہیں تقدس اور تنزہ اور عصمت اور کمال محبت الہیہ حاصل نہیں ۔ کیونکہ عیسائی لوگ اصول حقہ کو کھو بیٹھے ہیں اور ساری صداقتیں صرف اس خیال پر قربان کر دی ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح خدا بن جائیں اور کفارہ کا مسئلہ جم جائے ۔ سو چونکہ نبیوں کا معصوم اور مقدس ہوتا ان کی اس عمارت کو گراتا ہے جو وہ بنا رہے ہیں اس لئے ایک جھوٹ کی خاطر سے دوسرا جھوٹ بھی انہیں گھڑنا پڑا اور ایک آنکھ کے مفقود ہونے سے دوسری بھی پھوڑنی پڑی۔ پس ناچارا نہوں نے باطل سے پیار کر کے حق کو چھوڑ دیا۔ نبیوں کی اہانت روا رکھی ۔ پاکوں کو نا پاک بنایا۔ اور ان دلوں کو جو مہبط وحی تھے کثیف اور مکڈر قرار دیا تا کہ ان کے مصنوعی خدا کی کچھ عظمت نہ گھٹ جائے یا منصوبہ کفارہ میں کچھ فرق نہ آجائے ۔ اسی خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی تو ہین نہیں ہوتی بلکہ خدا کی قدوسی پر بھی حرف آتا ہے ۔ کیونکہ جس نے نعوذ باللہ نا پاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کا ہے کا پاک ہوا۔ خلاصہ کلام یہ کہ عیسائیوں کا قول بوجہ شدت باطل پرستی حق سے تجاوز کر گیا ہے اور اب وہ خواہ نخواہ اسی عقیدہ باطلہ کو سرسبز کرنا چاہتے ہیں جس پر ان کے مخلوق پرست بزرگوں نے قدم مارا ہے گو اس سے تمام صداقتیں منقلب ہو جائیں یا کیسا ہی حق اور راستی کے برخلاف چلنا پڑے ۔ مگر طالب حق کو سمجھنا چاہیئے