براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 188

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۸۶ براہین احمدیہ حصہ سوم تو پھر اگر تم کو ایسی استقراء تام پر بھی اعتبار نہیں کہ جو خدا کے سارے قانون قدرت پر نظر کر کے بنایا گیا ہے تو عقل اور قانون قدرت کا نام نہ لو اور منطق اور فلسفہ کی (۱۷۳) بیسود کتابوں کو چاک کر کے دریا برد کرو۔ کیا تم کو یہ بات منہ سے نکالتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ ایک مکھی جس کے دیکھنے سے بھی طبیعتیں کراہت کرتی ہیں وہ اپنی ظاہری ۱۷۳ نہیں ہے خواہ کوئی کیسا ہی ہوا پرست اور نفس امارہ کا مغلوب ہو پھر بھی کسی نہ کسی قدر نور فطرتی اس میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً جو شخص بوجہ غلبہ قوائے شہو یہ یا غصبیہ چوری کرتا ہے یا خون کرتا ہے یا حرامکاری میں مبتلا ہوتا ہے تو اگر چہ یہ فعل اس کی فطرت کا مقتضا ہے لیکن بمقابلہ اُس کے نور صلاحیت جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے وہ اس کو اسی وقت جب اس سے کوئی حرکت بے جا صادر ہو جائے ملزم کرتا ہے جس کی طرف اللہ تعالی نے اشارہ فرمایا ہے۔ فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبِهَا۔ الجزو نمبر ۳۰ ۔ یعنے ہر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ نیک اور بد کام میں فرق کر لینا ۔ جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام برا کیا اچھا نہیں کیا۔ لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب ۔ سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجود روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ ان کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اس کو کون دور کرے۔ ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ تو بہ واستغفار اور ندامت نے جب کہ برا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی برا خیال دل میں آوے تو اگر وہ تو بہ اور استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ الشمس: 9