براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 180
روحانی خزائن جلد ۱۔ IZA براہین احمدیہ حصہ سوم کرنے سے خود بار بار اس بات کی طرف جوش دلا دے کہ وہ نظیر بنانے میں کوئی دقیقہ ۱۶۲) سعی اور کوشش اور اتفاق با ہمی کا اٹھا نہ رکھیں اور اپنی جان بچانے کے لئے جان لڑا کر ضرورت ہے جو کامل اور بے نظیر ہو تب بھی لازم نہیں آتا کہ خداوند تعالیٰ نے ضرور وہ الہام نازل کیا ہے کیونکہ بہت سی چیزوں کی دنیا میں بھی انسان کو ضرورت ہے مگر خدا نے وہ ساری ضرورتیں اس کی پوری نہیں کیں۔ مثلاً انسان چاہتا ہے کہ اس کو موت نہ آوے۔ کبھی مفلس نہ ہو۔ کبھی بیمار نہ ہو ۔ لیکن اپنی مراد کے برخلاف آخر ایک دن مرتا ہے اور افلاس اور بیماری بھی آتی ہی رہتی ہے۔ جواب۔ جس حالت میں وہ کامل اور بے نظیر الہام جس کی ہمیں ضرورت تھی موجود ہے۔ یعنی قرآن شریف جس کی کمالیت اور بے نظیری کے مقابلہ پر آج تک کسی نے دم بھی نہیں مارا۔ تو پھر موجود کو غیر موجود سمجھنا اور اس کی ضرورت کو ایک فرضی ضرورت قرار دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی قوت بینائی جاتی رہی ہے۔ ہاں اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو قرآن شریف کی دلائل بے نظیری اور کمالیت کو جن کو ہم نے بھی اس کتاب میں لکھا ہے تو ڑ کر دکھلائیے ورنہ لا جواب رہ کر پھر بھی بولتے رہنا صفت حیا کے مفقود ہونے کی نشانی ہے۔ جس حالت میں ایسا کامل اور بے نظیر الہام آچکا جس نے بے نظیری کا دعوی کرنے سے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ کوئی اس کی بے نظیری کو توڑے اور پھر بلاشبہ الہام کا منکر بنا رہے تو پھر قبل اس کے جو اس کا کوئی معقول جواب دیں الہام کی ضرورت کو فرضی ضرورت ہی کہتے رہنا کیا یہ ایمانداری ہے یا ہٹ دھرمی ہے۔ اور عالم ثانی کو دنیا پر قیاس کرنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ دنیا کو خدا نے ہمیشہ کے آرام کے لئے نہیں بنایا نہ ہمیشہ کے دُکھ کے لئے بنایا ہے بلکہ اس کی رنج و راحت دونوں گذرنے والی چیزیں ہیں اور ہر ایک دور اس کا ختم ہونے والا ہے لیکن دار آخرت وہ عالم ہے کہ جو راحت دائگی یا عقوبت دائگی کا مقام ہے جس کے لئے ہر ایک دور اندیش آدمی آپ تکلیف اٹھاتا ہے اور خاتمہ بد سے ڈر کر بمشقت تمام طاعت الہی بجالاتا ہے۔ عیش و عشرت کو چھوڑتا ہے۔ شدت وصعوبت کو اختیار کرتا ہے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ اس عالم جاودانی کے مقابلہ پر اس مقام فانی کی نظیر پیش کرنا نظر کا گھاٹا ہے یا نہیں۔