براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 173

روحانی خزائن جلد ۱ 121 براہین احمدیہ حصہ سوم بقیه حاشیه نمبراا اور پھر آپ ہی بڑبڑا ئیں کہ اب قومی بشریہ اس چیز کی مثل بنانے سے قاصر اور عاجز ہیں اور اس مجنونانہ قول کا خلاصہ یہ ہوگا کہ قومی بشریہ ایک چیز کے بنانے پر قادر ہیں اسی کتاب میں بخوبی کھول کر لکھی جاوے گی ۔ پھر اس منہ اور اس لیاقت کے ساتھ ربانی الہام سے خدا بیٹھنا کواہل سے انکار کرنا اور آپ ہی خدا کا قائم مقام بن بیٹھنا اور حضرات مقدسین انبیاء کو اہل غرض سمجھنا یہ آپ لوگوں کی نیک طینتی ہے۔ اور اس سے دھو کا مت کھانا کہ عقل ایک عمدہ چیز ہے۔ ہم بر یک تحقیق معقل ہی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ بلاشبہ عمدہ چیز ہے۔ لیکن اس کا جو ہر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے جوڑ کے ساتھ شامل ہو۔ ورنہ وہ دھوکا دینے میں دشمنوں سے بدتر ہے۔ دو رنگی دکھلانے میں منافقوں سے بڑھ کر ہے۔ سو تمہاری بدنصیبی تم اس کے جوڑ کے نام سے بھی چڑتے ہو ۔ دوستو ! خوب سوچو بن جوڑ کسی بات کی بھی گت نہیں۔ خدا نے جوڑ بھی ایک عجب چیز بنادی ہے ۔ جہاں دیکھو جوڑ ہی سے کام نکلتا ہے۔ ہم تم سب آنکھوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ پر آفتاب کی بھی ضرورت ہے۔ کانوں ہی سے سنتے ہیں پر ہوا کی بھی حاجت ہے۔ آفتاب چھپا تو بس اندھے بیٹھے رہو۔ کانوں کو ہوا سے ڈھانک لوتو بس سننے سے چھٹی ہوئی۔ جس عورت کے خاوند سے کوئی بات ہونے نہ پائے بھلا اُس کا کس بدھ حمل ٹھہرے۔ جس ۱۶۳ زراعت کو پانی چھو بھی نہیں گیا اس کو کیونکر پھل لگے۔ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ تمہاری سمجھ سے دور ہوں ۔ یہ وہی قانون قدرت ہے جس پر عمل کرنے کا تم کو دعوی ہے ۔ سواب اس دعوئی پر عمل بھی کرو ۔ تانرے دکھانے کے ہی دانت نہ رہیں۔ ہر این چنین افتاد قانون خدا حاجت نورے بود هر چشم را چشم بینا بے خور تابان که دید کے چنین چشم خداوند آفرید سر میزنی چون تو خود قانونِ قدرت بشکنی پس چرا بر دیگران آنکه در هر کار شد حاجت روا چون رواداری که نبود رہنما آنکہ اسپ و گاؤ خر را آفرید تا رہد پشت تو از بار شدید