براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 148

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۴۶ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۳۲ منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل یقینیہ اس کو متحضر ہو گئے ہیں۔ اور زید ایک شخص ہے جس کی نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ نہ اس نے کچھ منطق و فلسفہ وغیرہ سے کوئی حرف پڑھا ہے اور نہ کتب فلسفہ سے اس کو کچھ اطلاع ہے۔ اور نہ طریقہ نظر اور فکر میں اس کو کچھ مشق ہے۔ اور نہ کسی اہل علم اور حکمت سے اس کی مخالطت اور صحبت ہے بلکہ محض آتی ہے اور امتیوں میں ہمیشہ بود و باش رکھتا ہے۔ پس وہ علوم جو بکر نے بتمامتر محنت وکلفت و مشقت حاصل کئے ہیں۔ وہ بکر کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ بکر نے ان کو ایک مدت مدید تک جہد شدید سے تعلیم پا کر حاصل کیا ہے۔ لیکن زید جو بالکل نا خواندہ ہے۔ اگر حکمت اور فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کو ایسا صاف اور صحیح بیان کرے جس میں سرمو تفاوت نہ ہو ۔ اور علوم عالیہ کی نازک اور اعلیٰ صداقتوں کو ایسے کامل طور پر ظاہر کرے جس میں کسی نوع کا فتور اور نقصان نہ پایا جائے ۔ اور دقائق حکمیہ کا ایسا مکمل مجموعہ پیش کرے۔ جن کا باستیفاء بیان کرنا پہلے اس سے کسی حکیم کو میسر نہ ہوا ہو تو ہر یک امر کی نسبت مکمل بیان اس کا جس میں شرائط مذکورہ بالا پائی جائیں امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ کیونکہ اس نے ان امور کو بیان کیا جن کا بیان کرنا اس کی طاقت اور استعداد اور انداز علم اور فہم سے باہر تھا اور جن کے بیان کرنے میں اس کے پاس اسباب عادیہ میں سے کوئی ذریعہ موجود نہ تھا۔ (ج) بکر ایک پادری یا پنڈت یا کسی اور مذہب کا عالم اور فاضل اور ماہر جز وکل ہے ۔ جس نے ایک کلاں حصہ اپنی عمر کا خرچ کر کے اور بیسیوں برس محنت اور مشقت اٹھا کر اس مذہب کے متعلق جو نہایت دقیق باتیں ہیں دریافت کیں ۔ اور جو کچھ اس مذہب کی کتاب میں صواب یا خطا ہے یا جو غایت درجہ کی بار یک صداقتیں ہیں ۔ وہ سب مدت دراز کے تفکر اور تدبر سے معلوم کر لیں ۔ اور زید ایک شخص ہے جس کی