براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 147
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۴۵ براہین احمدیہ حصہ سوم واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہود کا رکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے (۱۳) اس کو حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ اس کی نسبت عند العقل یہ گمان جائز ہے کہ اس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کر لیا ہوگا۔ گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ اضافی اور نسبتی امور ہیں۔ یعنے ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف ان کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہو جاتے ہیں کہ امور غیبیہ ہونے کا ان پر اطلاق ہو۔ اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں ۔ تو یہ قابلیت ان میں متحقق نہیں ہوتی۔ تمثیلات (الف) زید ایک شخص ہے جو ہمارے اس زمانہ میں پیدا ہوا۔ اور بر ایک شخص ہے جو پچاس برس بعد زید کے پیدا ہوا۔ جس کا زمانہ زید نے نہیں پایا اور نہ اس کے واقعات سے مطلع ہونے کا زید کو کوئی خارجی ذریعہ حاصل ہوا ۔ سو وہ واقعات جو بکر پر گزرے اگر چہ وہ بکر کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اسی کے واقعات ہیں اور اس کے لئے مشہود اور محسوس ہیں۔ لیکن اگر انہیں واقعات سے زید ٹھیک ٹھیک اطلاع دے۔ ایسا کہ سر موفرق نہ ہو۔ تو کہا جائے گا کہ زید نے امور غیبیہ سے اطلاع دی۔ کیونکہ وہ امور زید کے لئے مشہور اور محسوس نہیں ہیں اور نہ ممکن تھا کہ ان کے حصول کے لئے زید کو کوئی ذریعہ خارجی حاصل ہوتا۔ (ب) بکر ایک فلاسفر ہے جس نے کتب فلسفیہ میں ایک زمانہ دراز تک بغور تمام نظر اور فکر کر کے دقائق حکمیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں ملکہ کا ملہ پیدا کیا ہے۔ اور جه تحصیل علوم عقلیہ اور مطالعہ تالیفات اولین اور حصول ذخائر تحقیقات متقدمین اور نیز باعث ہمیشہ کے سوچ اور بچار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررہ صناعت بوجہ