براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 137

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۳۵ براہین احمدیہ حصہ سوم مقرر ہوئی ۔ مگر اب یہ کتاب بوجه احاطه جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جسکے مصارف پر نظر کر کے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سور و سپید رکھی جائے۔ مگر باعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جائے لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا از ائد از حق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض اللہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے۔ اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا کہ جو مجر دخریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جنکے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کا بے بہا ایمان صرف خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں سمانہیں سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاودانی خریدنا چاہتے ہیں و ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء ۔ بالآخر ہم اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتے ہیں۔ کہ اے خداوند کریم تو اپنے خالص بندوں کو اس طرف کامل توجہ بخش۔ اے رحمان و رحیم تو آپ اُن کو یاد دلا۔ اے قادر توانا تو ان کے دلوں میں آپ الہام کر ۔ آمین ثم آمین۔ ونتوكل على ربنا ربّ السموات والارض ربّ العالمين۔ اعلام اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے کتاب کو خرید فرما کر قیمت پیشگی بھیجی یا محض اللہ اعانت کی بوجہ عدم گنجائش نہیں لکھے گئے۔ اور بعض صاحبوں کی یہ بھی رائے ہے کہ لکھنا کچھ ضرورت نہیں ۔ بہر حال حصہ چہارم میں جو کچھ اکثر صاحبوں کی نظر میں قرین مصلحت ہو گا اس پر عمل کیا جائے گا۔ خاکسار ميرزا غلام احمد عُذر۔ اب کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں قریب دو برس کے توقف ہوگئی غالبا اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ تمام توقف ما تم صاحب سفیر ہند کی بعض مجبوریوں سے جنکے مطبع میں کتاب چھپتی ہے ظہور میں آئی ہے۔ خاکسار غلام احمد علی اللہ عنہ