براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 71
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۹ براہین احمدیہ حصہ دوم فرماتے ہیں جو پچاس سال سے پہلے تمام ہندوستان میں کرسشان شدہ لوگوں کی تعداد صرف ستائیس ہزار تھی اس پچاس سال میں یہ کارروائی ہوئی جو ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا پہنچ گیا ہے انا لله وانا اليه راجعون!! اے بزرگو! اس سے زیادہ تر اور کون سا وقت انتشار گمراہی کا ہے کہ جس کے آنے کی آپ لوگ راہ دیکھتے ہیں ایک وہ زمانہ تھا جو دین اسلام يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا لے کا مصداق تھا اور اب یہ زمانہ! کیا آپ لوگوں کا دل و اس مصیبت کوسن کر نہیں جلتا؟ کیا اس وباء عظیم کو دیکھ کر آپ کی ہمدردی جوش نہیں مارتی ؟ اے صاحبان عقل و فراست ۔ اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جو فساد دین کی بے خبری سے پھیلا ہے اس کی اصلاح اشاعت علم دین پر ہی موقوف ہے سواسی مطلب کو کامل طور پر پورا کرنے کے لئے میں نے کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا ہے اور اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جاوے گا۔ اس کتاب کی اعانت طبع کے لئے جس قدر ہم نے لکھا ہے وہ محض مسلمانوں کی ہمدردی سے لکھا گیا ہے کیونکہ ایسی کتاب کے مصارف جو ہزار ہاروپیہ کا معاملہ ہے اور جس کی قیمت بھی به نیت عام فائدہ مسلمانوں کے نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے یعنے پچیس روپیہ میں سے صرف دس رو پیر کھے گئے ہیں وہ کیونکر بغیر اعانت عالی ہمت مسلمانوں کے انجام پذیر ہو۔ بعض صاحبوں کی سمجھ پر رونا آتا ہے جو وہ بروقت درخواست اعانت کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتاب کو بعد طیاری کتاب کے خرید لیں گے پہلے نہیں۔ ان کو سمجھنا چاہیئے کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں۔ اعانت کا وقت تو یہی ہے کہ جب طبع کتاب میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ورنہ بعد چھپ چکنے کے اعانت کرنا ایسا ہے کہ جیسے بعد تندرستی کے دوا دینا۔ پس ایسی لا حاصل اعانت سے کس ثواب کی توقع ہوگی۔ خدا نے لوگوں کے دلوں سے دینی محبت کیسی منادی جو اپنے ننگ و ناموس کے کاموں میں ہزار ہا روپیہ آنکھ بند کر کے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں لیکن دینی کاموں کے بارے میں جو اس ل النصر :٣