براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 70
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۸ براہین احمدیہ حصہ دوم علوم عقلیہ نے یہی الٹا اثر کیا ہے حال کے تعلیم یافتہ لوگوں کی طبائع میں ۔ ایک عجب طرح کی آزاد نشی بڑھتی جاتی ہے اور وہ سعادت جو سادگی اور غربت اور صفا باطنی میں ہے وہ ان کے مغرور دلوں سے بالکل جاتی رہی ہے اور جن جن خیالات کو وہ سیکھتے ہیں وہ اکثر ایسے ہیں کہ جن سے ایک لامذہبی کے وساوس پیدا کرنے والا ان کے دلوں پر اثر پڑتا جاتا ہے اور اکثر لوگ قبل اس کے جو ان کو کوئی مرتبہ تحقیق کامل کا حاصل ہو صرف جہل مرکب کے غلبہ سے فلسفی طبیعت کے آدمی بنتے جاتے ہیں۔ آؤ اپنی اولا د اور اپنی قوم اور اپنے ہموطنوں پر رحم کرو اور قبل اس کے جو وہ باطل کی طرف کھینچے جائیں ان کو حق اور راستی کی طرف بھینچ لاؤ تا تمہارا اور تمہاری ذریت کا بھلا ہو اور تا سب کو معلوم ہو جو بمقابلہ دین اسلام کے اور سب ادیان بے حقیقت محض ہیں۔ دنیا میں خدا کا قانون قدرت یہی ہے جو کوشش اور سعی اکثر حصول مطلب کا ذریعہ ہو جاتی ہے اور جو شخص ہاتھ پاؤں توڑ کر اور غافل ہو کر بیٹھ جاتا ہے وہ اکثر محروم اور بے نصیب رہتا ہے سو آپ لوگ اگر دین اسلام کی حقیت کے پھیلانے کے لئے جو فی الواقع حق ہے کوشش کریں گے تو خدا اس سعی کو ضائع نہیں کرے گا خدا نے ہم کو صد ہا براہین قاطعہ حقیت اسلام پر عنایت کیں اور ہمارے مخالفین کو ان میں سے ایک بھی نصیب نہیں اور خدانے ہم کو حق محض عطا فرمایا اور ہمارے مخالفین باطل پر ہیں اور جو راستبازوں کے دلوں میں جلال احدیت کے ظاہر کرنے کے لئے سچا جوش ہوتا ہے اس کی ہمارے مخالفوں کو بو بھی نہیں پہنچی لیکن تب بھی دن رات کی کوشش ایک ایسی موثر چیز ہے کہ باطل پرست لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور چوروں کی طرح کہیں نہ کہیں ان کی نقب بھی لگتی ہی رہتی ہے۔ دیکھو عیسائیوں کا دین کہ جس کا اصول ہی اول الدن درد ہے پادریوں کی ہمیشہ کی کوششوں سے کیسا ترقی پر ہے اور کیسے ہر سال ان کی طرف سے فخریہ تحریر میں چھپتی رہتی ہیں کہ اس برس چار ہزار عیسائی ہوا اور اس سال آٹھ ہزار پر خداوند مسیح کا فضل ہو گیا ابھی کلکتہ میں جو پادری هیگر صاحب نے اندازہ کرسشان شده آدمیوں کا بیان کیا ہے اس سے ایک نہایت قابل افسوس خبر ظاہر ہوتی ہے۔ پادری صاحب