براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 117
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۱۵ براہین احمدیہ حصہ دوم دینے اور توہین کرنے کو بڑے چالاک ہیں اور ہجو اور اہانت کرنا کسی استاد سے خوب سیکھے ہیں ۔ ہندو دوسرے تمام پیغمبروں اور کتابوں کی تکذیب کر کے صرف وید کا بھجن گا رہے ہیں کہ جو ہے سووید ہی ہے۔ عیسائی ساری تعلیم الہی انجیل پر ختم کئے بیٹھے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ قدر و منزلت ہر یک کتاب کی افادہ توحید سے وزن کی جاتی ہے اور جو کتاب توحید کا فائدہ پہنچانے میں زیادہ ہو وہی رتبہ میں زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر منکر وحدانیت الہی کا کیسا ہی جامع اخلاق کیوں نہ ہو مگر تب بھی نجات نہیں پاسکتا۔ اب ان صاحبوں کو سوچنا چاہیے کہ توحید جو مدار نجات کا ہے کس کتاب کے ذریعہ سے دنیا میں سب سے زیادہ شائع (۱۳۳) ہوئی بھلا کوئی بتلائے تو سہی کہ کس ملک میں وید کے ذریعہ سے وحدانیت الہی پھیلی ہوئی ہے۔ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (سورۃ انحل الجزو۱۴) یعنے ہم کو اپنی ذات الوہیت کی قسم ہے جو مبدء فیضان ہدایت اور پرورش اور جامع تمام صفات کا ملہ ہے جو ہم نے تجھ سے پہلے دنیا کے کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔ پس وہ لوگ شیطان کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے ۔ سو وہی شیطان آج ان سب کا رفیق ہے۔ اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور جو امر حق ہے وہ کھول کر سنایا جائے اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مرگئی تھی ۔ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اس مردہ زمین کو زندہ کیا۔ یہ ایک نشان صداقت اس کتاب کا ہے۔ پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنے طالب حق ہیں۔ اب غور سے دیکھنا چاہیے کہ وہ تینوں مقدمات متذکرہ بالا کہ جن سے ابھی ہم نے آنحضرت کے بچے ہادی ہونے کا نتیجہ نکالا تھا۔ کس خوبی اور لطافت سے آیات ممدوحہ۱۲۴ میں درج ہیں ۔ اول گمراہوں کے دلوں کو جو صد ہا سال کی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ۔ زمین خشک اور مردہ سے تشبیہہ دے کر اور کلام الہی کو مینہہ کا پانی جو آسمان کی طرف سے آتا ہے ٹھہرا کر اس قانون قدیم کی طرف اشارہ فرمایا جو امساک باران کی شدت کے وقت میں ہمیشہ رحمت الہی بنی آدم کو برباد ہونے سے بچالیتی ہے اور یہ بات جتلا دی کہ یہ النحل : ۶۴ تا ۶۶