براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 112

روحانی خزائن جلد ۱ 11+ براہین احمدیہ حصہ دوم سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہو گئے ۔ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔ تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے ۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات وعربی بچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے ۔ کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہو جاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے لیکن سوچنا چاہئیے کہ آنحضرت کا یکلخت ہر ایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف تو حید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لئے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صد با مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑ لینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اس کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کر چکے تھے تو پھر اسی بلا انگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔ کیا دنیا کمانے کے لئے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا۔ سنا کر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہو جا ئیں۔ جولوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلا دیں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔ وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لئے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہر ایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ 119 دیتے ہیں۔ خدا کے لئے یک رنگ ہو جانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق