براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 111

روحانی خزائن جلد ۱ 1+9 براہین احمدیہ حصہ دوم سر پر بلالیا۔ وطن سے نکالے گئے قتل کے لئے تعاقب کئے گئے ۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا۔ بار باز ہر دی گئی ۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔ اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی بارگاہ طیارنہ ہوئی ۔ کوئی سامان شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب قیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور بھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا۔ اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کر کے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خولیش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا ۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی۔ کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے اور ہر دم قتل کر دینے کی گھات میں رہنے لگے ۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا۔ کیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا۔ حضرت عیسی کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا ۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے ۔ کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف تو حید ٹھہرائی گئی ۔ اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی کہ ہر ایک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دلآزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لئے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی ۱۱۸