براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 110

روحانی خزائن جلد 1 ۱۰۸ براہین احمدیہ حصہ دوم ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قومی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سورۃ یونس الجزوا) سے یعنے میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء کروں۔ دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں پہنے یہ مجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا ۔ وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔ غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہورہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلا شبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیونکر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ خیال کرنا چاہئے کہ کس استقلال سے آنحضرت اپنے دعوی نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعوی کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے يونس : ۱۷